اس ہولناک طوفاں کی زد میں آۓ
یہ نظم انسانی رشتوں کی ناپائیداری اور زندگی کی تلخیوں کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے اس میں دوستوں کی بے وفائی اور زندگی کی مشکلات کا ذکر کیا ہے۔
پہلے شعر میں شاعر نے طوفان کی علامت استعمال کی ہے جو زندگی کی مشکلات اور چیلنجز کو ظاہر کرتی ہے۔ "احباب جو بھی تھے کہیں مڑ مڑا گئے" میں دوستوں کی بے وفائی کو بیان کیا گیا ہے۔ دوسرے شعر میں شاعر نے دکھوں کا علاج کرنے کی کوششوں کا ذکر کیا ہے، لیکن جب ان کی اپنی باری آئی تو سب نے ساتھ چھوڑ دیا۔
تیسرے شعر میں شاعر نے شوخی اور دل کی سختیوں کی کمی کا ذکر کیا ہے، جو زندگی کی تلخیوں کی وجہ سے ختم ہو چکی ہیں۔ "ہم سے جو پیٹھ پھیر گئے" میں دوستوں کی بے وفائی کا ذکر ہے۔ چوتھے شعر میں شاعر نے دنیا کی سختیوں پر حیرانی کا اظہار کیا ہے اور لکھنے کو اپنا سہارا بنایا ہے۔
نظم کا جذباتی سفر مایوسی اور بے بسی سے شروع ہوتا ہے اور آخر میں خود کو لکھنے کے ذریعے اظہار کرنے پر ختم ہوتا ہے۔ اس کا لہجہ اداسی اور تنہائی کا ہے۔
شاعر نے استعارہ اور تشبیہ کا استعمال کیا ہے، جیسے کہ "طوفان" اور "سنگ وخشت"۔ یہ نظم انسانی رشتوں کی ناپائیداری اور زندگی کی تلخیوں کو بیان کرتی ہے، جو موجودہ دور کی ایک اہم حقیقت ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| ہولناک | خوفناک | بہت زیادہ خوفزدہ کرنے والا | holnaak |
| طوفاں | آندھی | بہت تیز ہوا یا طوفان | toofaan |
| زد | اثر | کسی چیز کا نشانہ بننا | zad |
| احباب | دوست | دوست یا ساتھی | ahbaab |
| مداوا | علاج | کسی مسئلے کا حل | madaawa |
| دامن | کپڑا | کپڑے کا کنارہ یا پلو | daaman |
| شوخ | چلبلا | زندہ دل یا شرارتی | shokh |
| قلب | دل | دل | qalb |
| حزیں | اداس | غمگین یا افسردہ | hazin |
| پیٹھ | کمر | کسی کی پیٹھ یا پشت | peeth |
| سنگ | پتھر | پتھر یا چٹان | sang |
| خشت | اینٹ | اینٹ یا پتھر | khasht |
| تلخیوں | کڑواہٹ | تلخ تجربات یا مشکلات | talkhiyon |
| دم بخود | حیران | حیرت زدہ یا ششدر | dam bakhud |
| قلم | لکھنے کا آلہ | لکھنے کے لئے استعمال ہونے والا آلہ | qalam |
اس نظم کے شاعر کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ نظم جدید اردو شاعری کی ایک مثال ہے، جو عموماً ذاتی اور معاشرتی مسائل پر روشنی ڈالتی ہے۔