کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے

جون ایلیاUrdu12 lines2 public analyses
EnglishPunjabi
Original Poetry
Translation
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے
وہ کتنے مزے سے رہتے ہوں گے، کتنے فخر کرتے ہوں گے
جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اس کو بھاتے ہوں گے
پتہ نہیں کیسے لوگ ہوں گے جو اسے پسند آتے ہوں گے
شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
شام کو خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں
میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے
میری بجھتی ہوئی حالت دیکھنے آ جاتے ہوں گے
وہ جو نہ آنے والا ہے نا اس سے مجھ کو مطلب تھا
وہ جو نہیں آنے والا ہے، اس سے میرا کوئی مطلب نہیں تھا
آنے والوں سے کیا مطلب آتے ہیں آتے ہوں گے
آنے والوں سے کیا مطلب، وہ آتے ہیں، آتے ہوں گے
اس کی یاد کی باد صبا میں اور تو کیا ہوتا ہوگا
اس کی یاد کی ہوا میں اور کیا ہوتا ہوگا
یوں ہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے
اسی طرح میرے بال بکھرے ہیں اور بکھر جاتے ہوں گے
یارو کچھ تو ذکر کرو تم اس کی قیامت بانہوں کا
دوستو، کچھ تو بات کرو اس کی قیامت بانہوں کی
وہ جو سمٹتے ہوں گے ان میں وہ تو مر جاتے ہوں گے
جو ان میں سمٹتے ہوں گے، وہ تو مر جاتے ہوں گے
میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے روئیں گے
میرا سانس اکھڑتے ہی سب بین کریں گے، روئیں گے
یعنی میرے بعد بھی یعنی سانس لیے جاتے ہوں گے
یعنی میرے بعد بھی، یعنی سانس لیتے رہیں گے
 

Explanation

جون ایلیا کی یہ غزل انسانی جذبات، محبت، اور زندگی کی عارضی نوعیت پر غور کرتی ہے۔ پہلے شعر میں شاعر ان لوگوں کے بارے میں سوچتا ہے جو اس کی محبوبہ کو پسند آتے ہیں اور ان کی خوشیوں کا ذکر کرتا ہے۔ دوسرے شعر میں وہ شام کے وقت کی تنہائی اور اپنی بجھتی ہوئی حالت کا ذکر کرتا ہے۔ تیسرے شعر میں وہ ان لوگوں کی بے نیازی کا ذکر کرتا ہے جو اس کی زندگی میں آتے ہیں اور جاتے ہیں۔ چوتھے شعر میں وہ اپنی محبوبہ کی یاد کی ہوا کا ذکر کرتا ہے جو اس کے بالوں کو بکھیر دیتی ہے۔ پانچویں شعر میں وہ محبوبہ کی بانہوں کی طاقت کا ذکر کرتا ہے جس میں سمٹنے والے مر جاتے ہیں۔ آخری شعر میں وہ اپنی موت کے بعد لوگوں کے رونے کا ذکر کرتا ہے، جو اس کے جانے کے بعد بھی سانس لیتے رہیں گے۔

Word Dictionary76

WordIn UrduIn PunjabiPron.
کتنےکئیبہت سارےkitne
عیشخوشیآرام و سکونaish
سےسےسےse
رہتےزندگی گزارتےرہائش پذیر ہوتےrahte
ہوںہوںہوںhoon
گےہوں گےہوں گےge
اتراتےفخر کرتےغرور کرتےitraate
جانےپتہ نہیںمعلوم نہیںjaane
کیسےکس طرحکس طرحkaise
لوگافرادانسانlog
وہوہوہwoh
جوجوجوjo
اساساسis
کوکوکوko
بھاتےپسند آتےدل کو بھاتےbhaate
شامشامشامshaam
ہوئےہوئےہوئےhue
خوشخوشخوشkhush
باشخوش مزاجخوش دلbaash
یہاںیہاںیہاںyahan
کےکےکےke
میرےمیرامیراmere
پاسقریبنزدیکpaas
آآتےآتےaa
جاتےجاتےجاتےjaate
ہیںہیںہیںhain
بجھنےمدھم ہونےختم ہونےbujhne
کاکاکاka
نظارہدیکھنامشاہدہnazaara
کرنےکرنےکرنےkarne
نہنہیںنہیںna
آنےآنےآنےaane
والاآنے والاآنے والاwala
ہےہےہےhai
نانہیںنہیںna
مجھمجھےمجھےmujh
مطلبمقصدمقصدmatlab
تھاتھاتھاtha
والوںآنے والےآنے والےwalon
کیاکیاکیاkya
آتےآتےآتےaate
کیکیکیki
یادیادیادyaad
بادہواہواbaad
صباصبح کی ہواصبح کی ہواsaba
میںمیںمیںmein
اوراوراورaur
توتوتوto
ہوتاہوتاہوتاhota
ہوگاہوگاہوگاhoga
یوںاسی طرحاسی طرحyoon
ہیہیہیhi
بالبالبالbaal
بکھرےپھیل گئےپھیل گئےbikhre
بکھرپھیلپھیلbikhar
یارودوستودوستوyaaro
کچھکچھکچھkuch
ذکرباتباتzikr
کروکروکروkaro
تمتمتمtum
قیامتبہت خوبصورتبہت خوبصورتqayamat
بانہوںبازوبازوbaanhon
سمٹتےگھیرتےگھیرتےsimatte
انانانun
مرختمختمmar
میرامیرامیراmera
سانسسانسسانسsaans
اکھڑتےختم ہوتےختم ہوتےakhadte
سبسبسبsab
بینروناروناbain
کریںکریںکریںkarein
روئیںروئیںروئیںroein
یعنییعنییعنیyaani
بعدبعدبعدbaad
بھیبھیبھیbhi
لیےلیےلیےliye

Poet & Context

Era20th century

جون ایلیا ایک مشہور اردو شاعر، فلسفی، اور دانشور تھے۔ ان کی شاعری میں محبت، تنہائی، اور فلسفے کی گہرائی ملتی ہے۔ وہ 1931 میں پیدا ہوئے اور 2002 میں وفات پا…

View on Wikipedia
When20th century
WhyThis ghazal reflects Jaun Elia's characteristic themes of existential contemplation, love, and the transient nature of life. His poetry often delves into personal and philosophical musings.
Formghazal

Themes & More

Existential contemplationLoveTransience of life
Metaphor: Use of 'باد صبا' to symbolize memories.Imagery: Vivid description of emotions and states of being.Repetition: Repeated use of 'آتے ہیں' to emphasize inevitability.Personification: Giving life to abstract concepts like memories and emotions.
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے by جون ایلیا — Poem, Translation & Meaning