چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں

Urdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار کہ میں
میرا معیار دوسروں سے مختلف ہے
زخم کھاوں گا تو کچھ اور سنور جاوں گا
جب مجھے چوٹ لگے گی تو میں اور بہتر ہو جاؤں گا
 

Explanation

یہ شعر خودی اور خود اعتمادی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اس کا معیار عام لوگوں سے الگ ہے، یعنی وہ عام لوگوں کی طرح نہیں سوچتا یا عمل کرتا۔ جب وہ زخم کھاتا ہے، یعنی مشکلات کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اور زیادہ نکھر جاتا ہے، یعنی وہ ان مشکلات سے سبق سیکھتا ہے اور بہتر بن جاتا ہے۔ یہ شعر انسان کی ان مشکلات کو بیان کرتا ہے جو اسے مضبوط بناتی ہیں اور اس کی شخصیت کو نکھارتی ہیں۔ یہ ایک مثبت پیغام ہے کہ مشکلات انسان کو بہتر بناتی ہیں اور اسے مزید سنوارتی ہیں۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
چارہحلآسان حلchaara
سازوںمددگارآسانی سے مدد کرنے والےsaazon
معیارپیمانہآسان پیمانہmiyaar
زخمچوٹآسان چوٹzakhm
سنورنکھرآسانی سے بہتر ہوناsanwar

Poet & Context

Poet
EraModern Urdu Poetry

یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے اور اس کا مصنف نامعلوم ہے۔ اردو شاعری میں یہ شعر جدید دور کی نمائندگی کرتا ہے جہاں خودی اور خود اعتمادی کے موضوعات پر زور دیا جاتا…


WhenModern Era
Whyیہ شعر خود اعتمادی اور خودی کے موضوعات پر مبنی ہے، جو کہ جدید اردو شاعری میں عام ہیں۔ یہ شعر انسان کی مشکلات اور ان کے ذریعے نکھرنے کی صلاحیت کو بیان کرتا ہے۔
FormGhazal

Themes & More

Self-confidenceResilience
Metaphor: 'زخم کھاوں گا تو کچھ اور سنور جاوں گا' میں زخم کو مشکلات کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔Contrast: 'چارہ سازوں سے الگ ہے مرا معیار' میں عام لوگوں اور شاعر کے معیار کا فرق دکھایا گیا ہے۔