تیرے پہلو سے جو اٹھو گا تو مشکل یہ ہے

احمد ندیم قاسمیUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
تیرے پہلو سے جو اٹھو گا تو مشکل یہ ہے
جب میں تمہارے پاس سے اٹھوں گا تو یہ مشکل ہو گی کہ
صرف اک شخصں کو پاو گا جدھر جاوں گا
میں جہاں بھی جاؤں گا، صرف ایک ہی شخص کو پاؤں گا
 

Explanation

یہ اشعار احمد ندیم قاسمی کی ایک غزل سے ہیں، جس میں شاعر نے اپنی تنہائی اور خود شناسی کے جذبات کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ جب وہ اپنے محبوب کے پاس سے اٹھے گا تو اسے مشکل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ جہاں بھی جائے گا، اسے صرف ایک ہی شخص ملے گا، جو اس کی اپنی ذات ہے۔ یہ اشعار انسانی جذبات کی گہرائی اور خود شناسی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ شاعر نے اپنے اندرونی احساسات کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے، جو کہ قاری کو متاثر کرتے ہیں اور اسے اپنے جذبات کی عکاسی کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

Word Dictionary8

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
پہلوساتھکسی کے قریب یا پاس ہوناpehlu
اٹھوکھڑے ہو جاؤاٹھ کر جاناuttho
مشکلدشواریکٹھنائی یا پریشانیmushkil
صرفمحضاکیلاsirf
شخصآدمیانسان یا فردshakhs
پاوملوںپانا یا حاصل کرناpaao
جدھرجہاںجس طرفjidhar
جاوںجاؤںچلا جاؤںjaaoon

Poet & Context

Era20th century

احمد ندیم قاسمی اردو کے مشہور شاعر، افسانہ نگار، اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 1916 میں ہوئی اور وہ 2006 میں وفات پا گئے۔ قاسمی نے اردو ادب میں نمایاں خدمات انجام دیں اور ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ہوتی…

View on Wikipedia
When20th century
Whyیہ غزل انسانی جذبات، تنہائی اور خود شناسی کے موضوعات پر مبنی ہے۔ شاعر اپنے اندرونی احساسات اور جذبات کو بیان کر رہا ہے، جو کہ ایک شخص کی زندگی میں پیش آنے والے مختلف مراحل کی عکاسی کرتے ہیں۔
Formغزل

Themes & More

تنہائیخود شناسی
تشبیہ: شاعر نے اپنی حالت کو ایک مخصوص صورت حال سے تشبیہ دی ہےاستعارہ: شاعر نے اپنی تنہائی کو ایک شخص کے طور پر بیان کیا ہے
تیرے پہلو سے جو اٹھو گا تو مشکل یہ ہے by احمد ندیم قاسمی — Poem, Translation & Meaning