مکھکی می ولی دی خیال خان تہ چی زہ بنہ پوہیرم

Urdu12 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
مکھکی می ولی دی خیال خان تہ چی زہ بنہ پوہیرم
میں سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں
اوس دومرہ پوہ شو م پہ خان باندی چی زہ نہ
اب میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نہیں ہوں
پوہیرم
بس تہ پوہیری معالجی یے تہ حکم بادرہ
بس تمہاری سوچیں ہیں جو حکم دیتی ہیں
لۓ منتہا تر انتہا پوری قیوم بساد رہ
کہاں سے شروع ہوتی ہیں اور کہاں ختم ہوتی ہیں
لۓ دبدبی شان او شوکت چی ہفہ تا ورکری
کہاں تک شان اور عظمت ہے جو تم دے سکتے ہو
سرد د دومرہ لوئی طاقت چی ہفہ تا ورکری
سردی کی طاقت کہاں تک ہے جو تم دے سکتے ہو
غیر پہ اورو بار دی چی انسان مسوولیت نہ اخلی
دوسروں پر بوجھ ہے کہ انسان ذمہ داری نہیں لیتا
توان بہ یے لڑی خُود گران گران مسوولیت نہ
تم خود بھی بڑی بڑی ذمہ داری نہیں لیتے
اخلی
چی ستا پہ ورزاندی دا خیال کرئی گناہونے
جب تمہارے ذہن میں یہ خیال آئے تو گناہ ہے
گورم
میں دیکھتا ہوں
 

Explanation

یہ نظم انسانی وجود اور خیالات کی گہرائیوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنے وجود کے بارے میں سوچتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ 'میں سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں' کے ذریعے وہ اپنی شناخت کی تلاش میں ہے، جبکہ 'اب میں اتنا جانتا ہوں کہ میں نہیں ہوں' اس کی بے بسی اور عدم شناخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ ایک گہرا فلسفیانہ سوال ہے جو انسانی وجود کی حقیقت کو اجاگر کرتا ہے۔

نظم میں شاعر یہ بھی بیان کرتا ہے کہ انسان کی سوچیں اس کی زندگی پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔ 'بس تمہاری سوچیں ہیں جو حکم دیتی ہیں' یہ بتاتا ہے کہ انسان کی سوچیں اس کی زندگی کی سمت متعین کرتی ہیں۔ اس کے بعد، شاعر انسانی ذمہ داریوں کی بات کرتا ہے، 'دوسروں پر بوجھ ہے کہ انسان ذمہ داری نہیں لیتا'، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انسان اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتا ہے۔

نظم کا جذباتی سفر ایک گہرے احساس سے شروع ہوتا ہے اور پھر انسانی کمزوریوں کی طرف بڑھتا ہے۔ شاعر کی آواز میں ایک مایوسی ہے جو انسانی حالت کی عکاسی کرتی ہے۔

شاعر نے مختلف ادبی آلات کا استعمال کیا ہے، جیسے کہ استعارہ اور تشبیہ، جو نظم کی گہرائی کو بڑھاتے ہیں۔ 'سردی کی طاقت' اور 'شان اور عظمت' جیسے الفاظ انسانی جذبات کی شدت کو بیان کرتے ہیں۔ یہ الفاظ قاری کو ایک خاص احساس دیتے ہیں، جو انسانی حالت کی پیچیدگیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

یہ نظم انسانی وجود کی پیچیدگیوں اور ذمہ داریوں کی عکاسی کرتی ہے، اور یہ بتاتی ہے کہ انسان اپنی سوچوں اور اعمال کے ذریعے اپنی زندگی کی سمت متعین کرتا ہے۔ یہ شاعر کی جدید دور کی شاعری کی ایک مثال ہے، جو انسانی حالت کی گہرائیوں میں جھانکتی ہے۔

Word Dictionary60

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
مکھکیسوچخیالmakhki
ولیکیاکیا ہےwali
دیکاکاdi
خیالخیالخیالkhayal
خانمیںمیںkhan
تہکہکہteh
چیجبجبchi
زہمیںمیںzah
بنہنہیںنہیںbanah
پوہیرمجانتا ہوںجانتا ہوںpohiram
اوسابابaus
دومرہاتنااتناdomrah
پوہجانتاجانتاpoh
شوہوہوsho
ممیںمیںm
پہپرپرpeh
باندیبنابناbandi
نہنہیںنہیںnah
بسصرفصرفbas
پوہیریسوچسوچpohiri
معالجیعلاجعلاجmalaji
یےہےہےye
حکمحکمحکمhukm
بادرہدےدےbadrah
لۓکے لئےکے لئےlay
منتہاانتہاانتہاmuntaha
ترسےسےtar
انتہاانتہاانتہاintaha
پوریپوریپوریpuri
قیومقائمقائمqayyum
بسادرکھرکھbasad
رہرہرہrah
دبدبیعظمتعظمتdabdabi
شانشانشانshan
اواوراورo
شوکتعظمتعظمتshaukat
ہفہجوجوhafa
تاتمتمta
ورکریدےدےworkari
سردسردیسردیsard
دکیکیd
لوئیبڑیبڑیlooi
طاقتطاقتطاقتtaqat
غیردوسروںدوسروںghair
اوروبوجھبوجھoro
بارہےہےbar
انسانانسانانسانinsaan
مسوولیتذمہ داریذمہ داریmasooliyat
اخلیلیتالیتاakhli
توانتمتمtawan
بہبھیبھیbeh
لڑیلڑائیلڑائیladi
خُودخودخودkhud
گرانبڑیبڑیgaran
ستاتمہاراتمہاراsta
ورزاندیخیالخیالwarzandi
دایہیہda
کرئیکرتا ہےکرتا ہےkarei
گناہونےگناہگناہgunahone
گورمدیکھتا ہوںدیکھتا ہوںgoram

Poet & Context

Poet
EraContemporary

یہ شاعر نامعلوم ہے اور اس کا کلام جدید دور کی شاعری کی عکاسی کرتا…


WhenRecent times
Whyیہ نظم انسانی ذمہ داریوں اور خیالات کی گہرائیوں پر روشنی ڈالتی ہے۔
Formنظم

Themes & More

ExistentialismResponsibility
Metaphor: The use of 'سردی کی طاقت' symbolizes the weight of responsibilities.Imagery: Vivid descriptions of thoughts and responsibilities create a strong visual impact.