جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے

Urdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے
چراغوں کا جلنا تو ہمیشہ سے ان کی قسمت میں ہے
یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہے کے جلے ہیں
یہ دل کے کنول ہیں جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں
 

Explanation

یہ شعر اردو شاعری کی ایک خوبصورت مثال ہے جو دل کی کیفیتوں کو بیان کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ چراغوں کا جلنا ان کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے، یعنی ان کا کام ہی جلنا ہے۔ دوسرے مصرعے میں دل کے کنول کی بات کی گئی ہے، جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں، یعنی دل کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ شعر دل کی نازک حالت اور جذبات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر نے دل کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی ہے جو کبھی کھلتا ہے کبھی مرجھاتا ہے، اور یہ دل کی کیفیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
چرغوںچراغوںروشنی دینے والے چراغcharaghon
مقدرقسمتوہ جو پہلے سے طے شدہ ہوmuqaddar
ازلہمیشہشروع سے ہمیشہazal
کنولپھولایک قسم کا پھول جو پانی میں کھلتا ہےkanwal
بجھےختم ہوناختم ہو جاناbujhe

Poet & Context

Poet
EraModern Urdu Poetry

یہ شعر کسی معروف شاعر کے نام سے منسوب نہیں ہے، لیکن یہ اردو شاعری کی جدید دور کی ایک مثال ہے۔ اردو شاعری میں دل کی کیفیتوں اور جذبات کو بیان کرنے کا ایک خاص مقام…

View on Wikipedia
WhenUnknown
Whyیہ شعر اردو شاعری کی روایت میں دل کی کیفیتوں کو بیان کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ دل کے جذبات اور ان کی نازک حالت کو بیان کرتا ہے۔
FormGhazal

Themes & More

FateEmotionsHeart's Condition
Metaphor: دل کے کنول کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی گئی ہےImagery: چراغوں کا جلنا اور بجھنا دل کی کیفیتوں کو ظاہر کرتا ہے
جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning