ہوا میرا ریشا امید وہ نخل سر سبز

Urdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
ہوا میرا ریشا امید وہ نخل سر سبز
میری امید کا درخت وہ ہرا بھرا درخت ہے
جس کی ہر شاخ میں ہو پھول اور ہر اک پھول میں پھل
جس کی ہر ٹہنی میں پھول ہو اور ہر پھول میں میوہ
 

Explanation

یہ شعر امید اور ترقی کی علامت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر اپنے خیالات کو ایک درخت کی شکل میں پیش کرتا ہے جو سر سبز ہے اور اس کی ہر شاخ پر پھول اور ہر پھول میں پھل ہے۔ یہ ایک استعارہ ہے جو زندگی کی ترقی اور خوشحالی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعر یہ بتانا چاہتا ہے کہ اگر امید کا درخت مضبوط ہو تو زندگی میں ہر جگہ خوشحالی اور ترقی ممکن ہے۔ یہ شعر ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں امید کو برقرار رکھنا چاہیے تاکہ ہم ترقی کی راہ پر گامزن رہ سکیں۔

Word Dictionary6

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ریشاتارپتلا دھاگہ یا تارreeshaa
نخلدرختپودا یا درختnakhul
سر سبزہرا بھراسبز اور شادابsar sabz
شاخٹہنیدرخت کی ٹہنیshaakh
پھولگلپھولphool
پھلمیوہپھلphal

Poet & Context

Poet
EraModern Urdu Poetry

یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے۔ اردو شاعری کی روایت میں یہ شعر جدید دور کی شاعری کی مثال…

View on Wikipedia
WhenModern Era
Whyیہ شعر امید اور ترقی کی علامت کے طور پر لکھا گیا ہے، جہاں ہر شاخ اور پھول میں ترقی کی علامت موجود ہے۔
FormGhazal

Themes & More

امیدترقیخوشحالی
استعارہ: امید کو درخت کی شکل میں پیش کرناتشبیہ: ہر شاخ میں پھول اور ہر پھول میں پھل