وہی جعاب انکھوں میں ڈال رے جو نشاط شام وصال دے

محسن احسانUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
وہی جعاب انکھوں میں ڈال رے جو نشاط شام وصال دے
وہی خواب آنکھوں میں ڈال دے جو خوشی کی شام لائے
جو پلک جھپک میں گزر گۓ مجھ پر وہی ماں و سال دے
جو پلک جھپکنے میں گزر گئے مجھ پر وہی مہینے اور سال واپس دے
 

Explanation

یہ غزل محسن احسان کی ہے، جس میں شاعر اپنے محبوب سے دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہی خواب میری آنکھوں میں ڈال دے جو خوشی کی شام دے۔ یہاں 'نشاط شام وصال' سے مراد محبوب سے ملاقات کی خوشی ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ جو پلک جھپک میں گزر گئے، وہی مہینے اور سال مجھے دوبارہ دے دے۔ یہاں شاعر کی مراد یہ ہے کہ محبوب کے ساتھ گزارے ہوئے لمحے اتنے خوشگوار تھے کہ وہ چاہتا ہے کہ وہ وقت دوبارہ لوٹ آئے۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
جعابخوابخواب، جو آنکھوں میں دیکھے جاتے ہیںja'aab
نشاطخوشیخوشی، مسرتnashaat
وصالملنامحبوب سے ملاقاتwisaal
پلک جھپکفوراًبہت جلدی، لمحہ بھر میںpalak jhapak
ماں و سالمہینے اور سالوقت کی اکائیاں، جیسے مہینے اور سالmaan-o-saal

Poet & Context

Era20th Century

محسن احسان اردو کے مشہور شاعر ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں محبت، جدائی اور انسانی جذبات کو موضوع بنایا۔ ان کی غزلیں اردو ادب میں ایک خاص مقام رکھتی…

View on Wikipedia
When20th Century
Whyیہ غزل محبت اور وصال کے جذبات کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب سے دوبارہ ملنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے۔
Formغزل

Themes & More

محبتوصالوقت کی اہمیت
تشبیہ: پلک جھپک میں گزر گئے لمحےاستعارہ: نشاط شام وصال
وہی جعاب انکھوں میں ڈال رے جو نشاط شام وصال دے by محسن احسان — Poem, Translation & Meaning