اک شمع بجھائ تو کئ اور جلا لیں

ادا جعفریUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
اک شمع بجھائ تو کئ اور جلا لیں
جب ایک شمع بجھتی ہے تو ہم کئی اور روشن کر لیتے ہیں
ہم گردش دوراں سے بڑی چال چلے ہیں
ہم نے وقت کی گردش سے بڑی چالاکی دکھائی ہے
 

Explanation

اس شعر میں شاعرہ ادا جعفری نے زندگی کی مشکلات اور ان کے حل کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پہلی لائن میں وہ کہتی ہیں کہ اگر ایک شمع بجھ جائے تو ہم کئی اور جلا لیتے ہیں، یعنی اگر ایک مسئلہ حل ہو جائے تو ہم دوسرے مسائل کا سامنا کرنے کے لئے تیار رہتے ہیں۔ دوسری لائن میں وہ کہتی ہیں کہ ہم نے وقت کی گردش سے بڑی چالاکی سے چال چلی ہے، یعنی ہم نے زندگی کی مشکلات کو سمجھداری سے حل کیا ہے۔ یہ شعر زندگی کی مشکلات کے باوجود ہمت اور حوصلہ برقرار رکھنے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
شمعچراغروشنی دینے والا آلہshamaa
بجھائختم کیبند کیbujhaa'i
گردشچکرگھومناgardish
دوراںزمانہوقتdawraan
چالحکمت عملیترکیبchaal

Poet & Context

Era20th Century

ادا جعفری اردو کی مشہور شاعرہ ہیں جنہوں نے اپنی شاعری میں خواتین کے جذبات اور احساسات کو خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کی شاعری میں محبت، درد، اور زندگی کی تلخیوں کا ذکر ملتا…

View on Wikipedia
When20th Century
Whyیہ شعر زندگی کی مشکلات اور ان کے حل کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ شاعرہ نے اس میں مشکلات کو چالاکی سے حل کرنے کی بات کی ہے۔
FormGhazal

Themes & More

ResilienceAdaptability
Metaphor: 'شمع' as a metaphor for hope or solutions.Imagery: Visual imagery of lighting candles to represent overcoming challenges.
اک شمع بجھائ تو کئ اور جلا لیں by ادا جعفری — Poem, Translation & Meaning