اک روشن دماغ تھا نا رہا

Altaf Hussain HaliUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
اک روشن دماغ تھا نا رہا
ایک ذہین شخص تھا جو اب موجود نہیں ہے
شہر میں اک چراغ تھا نا رہا
شہر میں ایک چراغ تھا جو اب موجود نہیں ہے
 

Explanation

یہ شعر الطاف حسین حالی کا ہے جس میں شاعر نے کسی عظیم اور ذہین شخصیت کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ شاعر نے اس شخصیت کو ایک روشن دماغ اور شہر کے چراغ سے تشبیہ دی ہے، جو اب بجھ چکا ہے۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس شخصیت کی موجودگی سے شہر میں روشنی اور علم کی فراوانی تھی، اور اب اس کے جانے سے ایک خلا پیدا ہو گیا ہے۔ شاعر نے انتہائی سادگی اور گہرائی سے اس نقصان کا ذکر کیا ہے، جو کسی اہم شخصیت کے جانے سے معاشرے کو ہوتا ہے۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
روشنچمکدارجو روشنی دےroshaan
دماغذہنسوچنے کی صلاحیتdimaag
چراغلامپروشنی دینے والا آلہchiraaagh
شہرقصبہآبادی والا علاقہshahar
نا رہاختم ہو گیااب موجود نہیںnaa raha

Poet & Context

Era19th Century

الطاف حسین حالی اردو کے مشہور شاعر اور نقاد تھے۔ ان کا تعلق 19ویں صدی سے تھا اور وہ جدید اردو شاعری کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ حالی نے اردو ادب میں اصلاحی تحریک کو فروغ…

View on Wikipedia
When19th Century
Whyیہ شعر کسی عظیم شخصیت کے انتقال پر کہی گئی ہے، جہاں شاعر نے اس شخصیت کو ایک روشن چراغ سے تشبیہ دی ہے جو اب بجھ چکا ہے۔
FormGhazal

Themes & More

LossMemoryTribute
Metaphor: 'روشن دماغ' اور 'چراغ' کو شخصیت کے لئے استعمال کیا گیا ہے۔Imagery: شہر میں چراغ کا بجھنا ایک بصری تصویر پیش کرتا ہے۔
اک روشن دماغ تھا نا رہا by Altaf Hussain Hali — Poem, Translation & Meaning