جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور

ادا جعفریUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
جو لوگ سخت دھوپ کو ہنس کر سہہ گئے
تاروں کی خنک چھاؤں میں وہ لوگ جلے ہیں
وہی لوگ ٹھنڈی رات کی چھاؤں میں تکلیف میں رہے
 

Explanation

ادا جعفری کی یہ نظم انسانی زندگی کی مشکلات اور ان کے مقابلے میں انسان کی استقامت کو بیان کرتی ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعرہ ان لوگوں کی تعریف کرتی ہیں جو زندگی کی سختیوں کو ہنس کر برداشت کرتے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں وہ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ وہی لوگ جو دن کی سختیوں کو جھیل لیتے ہیں، رات کی ٹھنڈی چھاؤں میں بھی جل جاتے ہیں۔ یہ نظم اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ زندگی میں مشکلات کا سامنا کرنے والے لوگ ہی اصل میں کامیاب ہوتے ہیں، لیکن ان کی جدوجہد کبھی ختم نہیں ہوتی۔

Word Dictionary6

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
جھیلبرداشتسہناjheel
کڑیسختبہت زیادہ گرم یا مشکلkarrhi
تیوررویہکسی چیز کا انداز یا حالتtevar
خنکٹھنڈیٹھنڈک والیkhunnak
چھاؤںسایہدرخت یا کسی چیز کا سایہchhaaon
جلےجل گئےتکلیف میں ہوناjalay

Poet & Context

Era20th century

ادا جعفری اردو کی معروف شاعرہ تھیں جو اپنی منفرد شاعری کے لئے جانی جاتی ہیں۔ ان کی شاعری میں خواتین کے جذبات اور معاشرتی مسائل کی عکاسی ملتی…

View on Wikipedia
When20th century
Whyیہ نظم انسانی جدوجہد اور مشکلات کے باوجود امید اور استقامت کی عکاسی کرتی ہے۔
FormGhazal

Themes & More

استقامتمشکلات کا سامنا
metaphor: دھوپ اور چھاؤں کو زندگی کی مشکلات اور آرام کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہےimagery: شاعرہ نے دھوپ اور چھاؤں کی تصویریں کھینچ کر انسانی جدوجہد کو بیان کیا ہے
جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور by ادا جعفری — Poem, Translation & Meaning