و قدْ أ غْ تدِي وال طَّیْرُ فِي وُكُناتِها بِمُنْ جرِدٍ قیْدِ الأ وابِدِ ھیْ ك ی لِ

امرؤ القيسArabic3 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
و قدْ أ غْ تدِي وال طَّیْرُ فِي وُكُناتِها بِمُنْ جرِدٍ قیْدِ الأ وابِدِ ھیْ ك ی لِ
میں صبح سویرے نکلتا ہوں جب پرندے اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں
مِ كرٍَّ مِ فرٍَّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ معًا كجُل مُودِ صخْرٍ ح طَّهُ ال سَّیْل مِنْ علِ
ایک تیز رفتار گھوڑے پر جو جنگلی جانوروں کو پکڑنے کے لیے تیار ہوتا ہے
کُ میْتٍ ی زِلَُّ الل بْدُ عنْ حالِ متْنِهِ ك ما زل تِ ال صَّفْ واءُ بِالمُ ت ن زَّلِ
وہ گھوڑا جو کبھی آگے بڑھتا ہے اور کبھی پیچھے ہٹتا ہے جیسے کہ ایک بڑا پتھر جو سیلاب سے اوپر سے نیچے آتا ہے ایک مضبوط گھوڑا جس کی پیٹھ پر زین پھسلتی ہے جیسے کہ چکنی چٹان پر پانی بہتا ہے
 

Explanation

یہ اشعار امرؤ القیس کی مشہور معلقات میں سے ہیں، جو قبل از اسلام عربی شاعری کی ایک اہم مثال ہیں۔ اس نظم میں شاعر نے ایک گھوڑے کی خوبصورتی اور طاقت کو بیان کیا ہے۔ شاعر صبح کے وقت کا منظر پیش کرتا ہے جب پرندے اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں اور وہ ایک تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہوتا ہے۔ یہ گھوڑا جنگلی جانوروں کو پکڑنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔ شاعر نے گھوڑے کی حرکت کو ایک بڑے پتھر کی طرح بیان کیا ہے جو سیلاب کے پانی کے ساتھ نیچے کی طرف آتا ہے۔ اس طرح کی تشبیہات شاعر کی قدرتی مناظر کو بیان کرنے کی مہارت کو ظاہر کرتی ہیں۔

Word Dictionary38

WordIn ArabicIn UrduPron.
واوراورwa
قدْیقیناًیقیناًqad
أمیںمیںa
غْصبحصبحgh
تدِينکلتا ہوںنکلتا ہوںtadi
والاوراورwal
طَّیْرُپرندےپرندےtayr
فِيمیںمیںfi
وُكُناتِهاگھونسلوںگھونسلوںwukunatiha
بِمُنْایکایکbimun
جرِدٍتیز رفتارتیز رفتارjarid
قیْدِپکڑنے کے لیےپکڑنے کے لیےqayd
الأجانوروںجانوروںal-a
وابِدِجنگلیجنگلیwabid
ھِیْوہوہhi
ك ی لِکی طرحکی طرحkayl
مِ كرٍَّآگے بڑھتاآگے بڑھتاmikr
مِ فرٍَّپیچھے ہٹتاپیچھے ہٹتاmifr
مُقْبِلٍآگےآگےmuqbil
مُدْبِرٍپیچھےپیچھےmudbir
معًاایک ساتھایک ساتھma'an
كجُلجیسےجیسےkajul
مُودِبڑابڑاmood
صخْرٍپتھرپتھرsakhr
ح طَّهُاوپر سے نیچےاوپر سے نیچےhatahu
ال سَّیْلسیلابسیلابal-sayl
مِنْسےسےmin
علِاوپراوپرali
کُ میْتٍمضبوطمضبوطkumayt
ی زِلَُّپھسلتا ہےپھسلتا ہےyazillu
الل بْدُزینزینal-labd
عنْپرپرan
حالِحالتحالتhal
متْنِهِپیٹھپیٹھmatnihi
ك ماجیسےجیسےkama
زل تِبہتا ہےبہتا ہےzalat
ال صَّفْ واءُچکنی چٹانچکنی چٹانal-safwa
بِالمُ ت ن زَّلِپانی بہتا ہےپانی بہتا ہےbi-al-mutanazzil

Poet & Context

EraPre-Islamic

امرؤ القيس ایک مشہور قبل از اسلام شاعر تھے جو اپنی معلقات کے لیے جانے جاتے ہیں۔ ان کی شاعری عربی ادب کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے اور انہوں نے عربی شاعری کے روایتی انداز کو فروغ…

View on Wikipedia
When6th century CE
WhyThis poem is part of Imru' al-Qais's Mu'allaqat, which are pre-Islamic poems that were traditionally hung on the Kaaba. The poem describes the beauty and strength of a horse, showcasing the poet's mastery in depicting vivid imagery and emotions.
FormMu'allaqat

Themes & More

NatureStrengthBeauty
Imagery: The poem uses vivid imagery to describe the horse and its movements.Simile: The horse's movements are compared to a large rock being swept by a flood.Metaphor: The horse is depicted as a powerful and majestic creature.
و قدْ أ غْ تدِي وال طَّیْرُ فِي وُكُناتِها بِمُنْ جرِدٍ قیْدِ الأ وابِدِ ھیْ ك ی لِ by امرؤ القيس — Poem, Translation & Meaning