حرارت جنگ و جدل اجاڑ دیتی ہے زندگیاں

Urdu28 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
حرارت جنگ و جدل اجاڑ دیتی ہے زندگیاں
جنگ کی گرمی زندگیاں برباد کر دیتی ہے
مرجھا جاتی ہیں کلیاں، تلملا جاتی ہیں سسکیاں
کلیاں سوکھ جاتی ہیں، آہیں بھرنے لگتی ہیں
نفسا نفسی کا ہر سو ہوتا ہے سماں
ہر جگہ خود غرضی کا ماحول ہوتا ہے
خون کی نہریں ہوتی ہیں ہر دم گلیوں میں رواں
گلیوں میں ہر وقت خون کی ندیاں بہتی ہیں
آسماں میں ہوتی ہے گولا بارود کی بوچھاڑ
آسمان پر گولہ باری کی بارش ہوتی ہے
سہمے ہوئے چہروں کی ہر سو ہوتی ہے قطار
خوفزدہ چہروں کی ہر طرف قطار ہوتی ہے
ہر فرد کے دل میں ہوتی ہے عجب سی دہشت و ہیبت برپا
ہر دل میں ایک عجیب سا خوف ہوتا ہے
کہ نہ جانے اگلے لمحے ہوگا کس گھر میں سوگ کا سماں
کہ نہ جانے اگلے لمحے کس گھر میں ماتم ہوگا
کفن میں لپٹے چہروں کی رمق قلب چیر دیتی ہے
کفن میں لپٹے چہروں کی چمک دل کو چیر دیتی ہے
خون میں لتھڑے جسموں کی ہیئت سانسیں بکھیر دیتی ہے
خون میں لتھڑے جسموں کی حالت سانسیں بکھیر دیتی ہے
انسانی اقدار کی تضحیک جہاں بن جاتی ہے معمول
انسانی اقدار کی بے حرمتی عام ہو جاتی ہے
درندوں کے کارواں ہوتے ہیں اسی سمت مبذول
درندوں کے قافلے اسی طرف متوجہ ہوتے ہیں
اجڑ جاتا ہے ہر پل زندگیوں کا شاخسانہ
ہر لمحہ زندگیوں کا انجام برباد ہو جاتا ہے
بچتا ہے تو محض رنج و الم کا تازیانہ
صرف غم و الم کا کوڑا باقی رہ جاتا ہے
ہوس مال و متاع بنا دیتا ہے انساں کو حیواں
مال و دولت کی ہوس انسان کو حیوان بنا دیتی ہے
طاقت کا خمار کر دیتا ہے اسے ہر دم بیزار خلقتاں
طاقت کا نشہ اسے ہر وقت لوگوں سے بیزار کر دیتا ہے
عوام الناس میں ہوتا ہے فاقہ کشی کا دور دوراں
لوگوں میں فاقہ کشی کا دور دورہ ہوتا ہے
مگر محلوں میں مقیم دلالوں کا ہوتا ہے پانی بھی مشک عنبراں
لیکن محلوں میں رہنے والے دلالوں کا پانی بھی مشک عنبر ہوتا ہے
کسی کو ہوتا ہے اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم
کسی کو اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم ہوتا ہے
تو کسی کو ہوتا ہے اپنے دیاروں کے اجڑ جانے کا الم
تو کسی کو اپنے دیاروں کے برباد ہونے کا دکھ ہوتا ہے
قارئین تو یہ مناظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں
قارئین یہ منظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں
مگر جن پر بیتتی ہے وہ بے چارے تو اجڑ جاتے ہیں
لیکن جن پر گزرتی ہے وہ بے چارے برباد ہو جاتے ہیں
وہ لوگ جن کی حیات کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی
وہ لوگ جن کی زندگی کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی
اب تیغ دشمنان سے بچنے کی جستجو ہی ان کا واحد دستور ہے
اب دشمنوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش ہی ان کا واحد اصول ہے
وہی لوگ جو ہر پل مسکرایا کرتے تھے
وہی لوگ جو ہر وقت مسکراتے تھے
اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہایا کرتے ہیں
اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہاتے ہیں
وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگنایا کرتے تھے
وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگناتے تھے
اب زندانان دشمناں میں آنسو بہایا کرتے ہیں
اب دشمنوں کی قید میں آنسو بہاتے ہیں
 

Explanation

یہ نظم جنگ و جدل کے اثرات کو بیان کرتی ہے۔ نظم میں بتایا گیا ہے کہ جنگ کی حرارت کیسے زندگیوں کو برباد کر دیتی ہے اور کلیاں مرجھا جاتی ہیں۔ ہر طرف خود غرضی کا ماحول ہوتا ہے اور خون کی ندیاں بہتی ہیں۔ آسمان پر گولہ باری کی بارش ہوتی ہے اور خوفزدہ چہروں کی قطاریں ہوتی ہیں۔ ہر دل میں خوف و دہشت ہوتا ہے کہ نہ جانے اگلے لمحے کس گھر میں ماتم ہوگا۔ کفن میں لپٹے چہروں کی چمک دل کو چیر دیتی ہے اور خون میں لتھڑے جسموں کی حالت سانسیں بکھیر دیتی ہے۔ انسانی اقدار کی بے حرمتی معمول بن جاتی ہے اور درندوں کے قافلے اسی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ ہر لمحہ زندگیوں کا انجام برباد ہو جاتا ہے اور صرف غم و الم کا کوڑا باقی رہ جاتا ہے۔ مال و دولت کی ہوس انسان کو حیوان بنا دیتی ہے اور طاقت کا نشہ اسے ہر وقت لوگوں سے بیزار کر دیتا ہے۔ لوگوں میں فاقہ کشی کا دور دورہ ہوتا ہے لیکن محلوں میں رہنے والے دلالوں کا پانی بھی مشک عنبر ہوتا ہے۔ کسی کو اپنے پیاروں کے چھن جانے کا غم ہوتا ہے تو کسی کو اپنے دیاروں کے برباد ہونے کا دکھ ہوتا ہے۔ قارئین یہ منظر پڑھ کر گزر جاتے ہیں لیکن جن پر گزرتی ہے وہ بے چارے برباد ہو جاتے ہیں۔ وہ لوگ جن کی زندگی کبھی رنگ برنگے خوابوں سے تعبیر تھی اب دشمنوں کی تلوار سے بچنے کی کوشش ہی ان کا واحد اصول ہے۔ وہی لوگ جو ہر وقت مسکراتے تھے اب آنسوؤں کی آبشاروں میں نہاتے ہیں۔ وہی لوگ جو اکثر نغمے گنگناتے تھے اب دشمنوں کی قید میں آنسو بہاتے ہیں۔

Word Dictionary22

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
حرارتگرمیگرمیharaarat
جدللڑائیلڑائیjadal
اجاڑبربادویرانujaar
نفسا نفسیخود غرضیافراتفریnafsaa nafsi
بوچھاڑبارشتیز بارشbochhaar
قطارلائنصفqataar
دہشتخوفخوفdehshat
ہیبترعبخوفhaibat
کفنلاش کا کپڑامیت کو لپیٹنے کا کپڑاkafan
رمقچمکروشنیramq
لتھڑےلپٹےلت پتlathray
تضحیکبے حرمتیبے عزتیtazheek
درندوںوحشیجانورdarindon
شاخسانہنتیجہانجامshaakhsaana
ہوسلالچحرصhavas
خمارنشہسرورkhumaar
فاقہ کشیبھوکفاقہfaqa kashi
مشک عنبراںخوشبومعطرmushk anbaran
المدکھغمalam
تیغتلوارخنجرtegh
آبشاروںجھرنےآبشارaabshaaron
زندانانقیدخانےجیلzindanaan

Poet & Context

Poet
EraContemporary

یہ نظم کسی خاص شاعر سے منسوب نہیں کی جا سکی۔ یہ ایک جدید دور کی نظم ہے جو جنگ و جدل کے اثرات کو بیان کرتی…


WhenContemporary
Whyیہ نظم جنگ و جدل کے اثرات اور انسانی زندگی پر اس کے تباہ کن نتائج کو بیان کرتی ہے۔ یہ نظم انسانی اقدار کی تضحیک اور معاشرتی ناہمواریوں کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
FormNazm

Themes & More

War and ConflictHuman SufferingSocial InjusticeLoss and Grief
Metaphor: 'حرارت جنگ و جدل' symbolizes the destructive nature of war.Imagery: Vivid descriptions of blood rivers and fearful faces.Personification: 'کفن میں لپٹے چہروں کی رمق' gives life to inanimate objects.Alliteration: Repetition of consonant sounds in 'خون کی نہریں'.
حرارت جنگ و جدل اجاڑ دیتی ہے زندگیاں by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning