وجودِ عشق کا کوئی سرا ملا؟ نہیں ملا

عاطف توقیرUrdu10 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
وجودِ عشق کا کوئی سرا ملا؟ نہیں ملا
کیا عشق کے وجود کا کوئی سرا ملا؟ نہیں ملا
خودی ملی؟ نہیں ملی، خدا ملا؟ نہیں
کیا خودی ملی؟ نہیں ملی، کیا خدا ملا؟ نہیں
ملا تمام شہر میں ملے، گلے ہزار رات سے
ہم شہر میں ہزار راتوں سے ملے
مگر کہیں، کسی جگہ، دیا ملا؟ نہیں ملا
لیکن کہیں، کسی جگہ، دیا ملا؟ نہیں ملا
تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے؟ نہیں ملے
کیا تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے؟ نہیں ملے
ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا؟ نہیں ملا
کیا ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا؟ نہیں ملا
یہ عہدِ رد کا عہد تھا سو رسم مسترد ہوئی
یہ رد کا دور تھا، لہذا رسم مسترد ہوئی
مسیحِ وقت دار پر کھڑا ملا؟ نہیں ملا
کیا وقت کا مسیح دار پر کھڑا ملا؟ نہیں ملا
زمینِ دشتِ یاد بھی ہوائے سنگ دل کی
یاد کے دشت کی زمین بھی سنگ دل کی ہوا کی
ہےکوئی نشان دیر تک پڑا ملا؟ نہیں ملا
کیا کوئی نشان دیر تک پڑا ملا؟ نہیں ملا
 

Explanation

یہ غزل عاطف توقیر کی ہے اور یہ انسانی وجود کی تلاش اور عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر مختلف سوالات کے ذریعے انسانی زندگی کی پیچیدگیوں اور تلاش کو بیان کرتا ہے۔

پہلے شعر میں شاعر عشق کے وجود کی تلاش کا ذکر کرتا ہے اور یہ سوال اٹھاتا ہے کہ کیا خودی یا خدا کا کوئی سرا ملا؟ یہ سوالات انسانی وجود کی گہرائیوں کو چھوتے ہیں۔ دوسرے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہم نے شہر میں ہزار راتوں سے لوگوں سے ملاقات کی، لیکن کہیں بھی روشنی کا کوئی نشان نہیں ملا۔ یہ انسانی زندگی کی بے معنویت کو ظاہر کرتا ہے۔

تیسرے شعر میں شاعر پوچھتا ہے کہ کیا تمہیں ہماری روح کے نشاں ملے؟ اور کیا ہمیں تمہارے جسم کا پتا ملا؟ یہ سوالات انسانی تعلقات کی پیچیدگیوں کو بیان کرتے ہیں۔ چوتھے شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ رد کا دور تھا، لہذا رسم مسترد ہوئی، اور وقت کا مسیح دار پر کھڑا نہیں ملا۔ یہ وقت کی بے رحمی اور انسانی امیدوں کی ناکامی کو ظاہر کرتا ہے۔

آخری شعر میں شاعر یاد کے دشت کی زمین اور سنگ دل کی ہوا کا ذکر کرتا ہے اور پوچھتا ہے کہ کیا کوئی نشان دیر تک پڑا ملا؟ یہ انسانی یادوں کی ناپائیداری اور وقت کی بے ثباتی کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ غزل انسانی زندگی کی تلاش، عدم اطمینان، اور وقت کی بے ثباتی کے موضوعات کو گہرائی سے بیان کرتی ہے۔

Word Dictionary15

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
وجودِہستیکسی چیز کا ہوناwajood-e
عشقمحبتبہت زیادہ پیارishq
سراکنارہشروعsiraa
خودیخود شناسیاپنی پہچانkhudi
مسیحِنجات دہندہبچانے والاmaseeh-e
دارپھانسیپھانسی کی جگہdaar
دشتِصحراریگستانdasht-e
سنگ دلبے رحمجس کے دل میں رحم نہ ہوsang dil
نشاںعلامتنشانnishaan
ہوائےہوافضاhawa-e
یادخاطریادداشتyaad
روحجانانسان کی جانrooh
جسمبدنانسان کا جسمjism
پتاپتہمقامpata
عہدِزمانہوقتahd-e

Poet & Context

EraContemporary

عاطف توقیر ایک جدید اردو شاعر ہیں جو اپنی منفرد انداز اور گہرائی کے لئے مشہور ہیں۔ ان کی شاعری میں جدید دور کے مسائل اور انسانی جذبات کی عکاسی ہوتی…


WhenContemporary
Whyیہ نظم جدید دور کے انسان کی تلاش اور عدم اطمینان کی عکاسی کرتی ہے۔
Formغزل

Themes & More

تلاشعدم اطمینانوقت کی بے ثباتی
استعارات: عشق کا سرا، خودی، خداتکرار: نہیں ملاتشبیہ: مسیحِ وقت دار پر
وجودِ عشق کا کوئی سرا ملا؟ نہیں ملا by عاطف توقیر — Poem, Translation & Meaning