کہا میں نے کتنا ہے گل کو ثبات

میر تقی میرUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
کہا میں نے کتنا ہے گل کو ثبات
میں نے پوچھا کہ پھول کتنی دیر تک تازہ رہتا ہے
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
کلی نے یہ سن کر ہنس دیا
 

Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا ایک خوبصورت نمونہ ہے جس میں انہوں نے پھول کی ناپائیداری اور کلی کی مسکراہٹ کے ذریعے زندگی کی عارضی نوعیت کو بیان کیا ہے۔ شاعر نے پھول کی پائیداری پر سوال اٹھایا ہے، جس کے جواب میں کلی مسکراتی ہے۔ یہ مسکراہٹ ایک طرح سے زندگی کی حقیقت کو قبول کرنے کا اشارہ ہے۔ میر کی شاعری میں اکثر فطرت کے عناصر کو انسانی جذبات کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا جاتا ہے، اور اس شعر میں بھی یہی انداز نظر آتا ہے۔ کلی کی مسکراہٹ اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ زندگی کی خوبصورتی اور ناپائیداری کو قبول کرنا ہی اصل حکمت ہے۔

Word Dictionary3

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ثباتپائیداریکسی چیز کی مستقل مزاجی یا دیرپا ہوناsabaat
تبسممسکراہٹہلکی سی مسکراہٹ یا ہنسیtabassum
کلیپھول کی کلیپھول کا بند حصہkali

Poet & Context

Era18th century

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر تھے جن کا تعلق 18ویں صدی سے تھا۔ ان کی شاعری میں سادگی اور خلوص کا عنصر نمایاں…

View on Wikipedia
When18th century
Whyیہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جو انسانی جذبات اور فطرت کی عکاسی کرتا ہے۔
FormGhazal

Themes & More

فطرت کی عارضی نوعیتزندگی کی حقیقت
metaphor: پھول اور کلی کا استعمال انسانی جذبات کی عکاسی کے لیے کیا گیا ہےimagery: پھول کی پائیداری اور کلی کی مسکراہٹ کا منظر پیش کیا گیا ہے
کہا میں نے کتنا ہے گل کو ثبات by میر تقی میر — Poem, Translation & Meaning