ہستی اک حباب کی سی ہے

میر تقی میرUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
ہستی اک حباب کی سی ہے
زندگی ایک بلبلے جیسی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
یہ دکھاوا ایک دھوکے جیسا ہے
 

Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جس میں انہوں نے انسانی زندگی کی ناپائیداری اور دھوکہ دہی کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں زندگی کو ایک بلبلے سے تشبیہ دی گئی ہے جو بہت جلد ختم ہو جاتا ہے، یعنی زندگی بھی عارضی اور ناپائیدار ہے۔ دوسرے مصرعے میں دنیا کی چمک دمک کو سراب سے تشبیہ دی گئی ہے، جو حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ ایک دھوکہ ہوتا ہے۔ میر تقی میر نے اس شعر کے ذریعے زندگی کی حقیقت کو نہایت سادہ اور گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ہستیزندگیزندگیhasti
حباببلبلہپانی کا بلبلہ جو جلدی پھٹ جاتا ہےhabaab
نمائشدکھاواچمک دمک یا دکھاوے کی چیزnumaish
سرابدھوکہنظر کا دھوکہsaraab

Poet & Context

Era18th century

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جو 18ویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور زندگی کی ناپائیداری کا گہرا اثر…

View on Wikipedia
When18th century
Whyیہ شعر میر تقی میر کی فلسفیانہ سوچ اور زندگی کی ناپائیداری کے احساس کو بیان کرتا ہے۔
Formغزل

Themes & More

زندگی کی ناپائیداریدھوکہ دہی
تشبیہ: زندگی کو حباب سے تشبیہ دی گئی ہےتشبیہ: نمائش کو سراب سے تشبیہ دی گئی ہے