تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا

احمد ندیم قاسمیUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا
تمہارا در چھوڑ کر میں کہاں جا سکتا ہوں؟
گھر میں گھر جاؤں گا صحرا میں بکھر جاؤں گا
گھر میں قید ہو جاؤں گا یا صحرا میں بکھر جاؤں گا۔
 

Explanation

یہ اشعار احمد ندیم قاسمی کی غزل سے ہیں، جہاں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہو کر کہتا ہے کہ اگر وہ اس کے در کو چھوڑ دے تو اس کے لیے کوئی اور جگہ نہیں ہے۔ شاعر اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ محبوب کے بغیر اس کی زندگی بے معنی ہو جائے گی۔ وہ یا تو اپنے گھر میں قید ہو جائے گا یا صحرا میں بکھر جائے گا۔ یہ اشعار محبت کی گہرائی اور محبوب کے بغیر زندگی کی بے معنویت کو بیان کرتے ہیں۔ شاعر کی زبان میں سادگی اور گہرائی ہے جو قاری کو متاثر کرتی ہے۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
دردروازہمحبوب کا دروازہdar
صحراریگستانخالی جگہ، ویران جگہsahraa
بکھرپھیل جاناٹوٹ جانا، منتشر ہوناbikhar
گھررہائش کی جگہاپنی جگہ، اپنی دنیاghar
چھوڑترک کرناپیچھے چھوڑ دیناchhoṛ

Poet & Context

Era20th century

احمد ندیم قاسمی ایک معروف اردو شاعر، افسانہ نگار اور صحافی تھے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات، محبت اور سماجی مسائل کا گہرا عکس ملتا…

View on Wikipedia
When20th century
Whyیہ غزل انسانی جذبات اور محبت کی گہرائی کو بیان کرتی ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب کے در کو چھوڑنے کے بعد کی حالت کو بیان کرتا ہے۔
Formغزل

Themes & More

محبتتنہائیبے معنویت
تشبیہ: صحرا میں بکھر جاؤں گااستعارہ: در کو چھوڑنا
تیرا در چھوڑ کے میں اور کدھر جاؤں گا by احمد ندیم قاسمی — Poem, Translation & Meaning