Montgomery prison

Faiz Ahmed FaizUrdu14 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
guloñ meñ rang bhare bād-e-nau-bahār chale
پھولوں میں رنگ بھر جائیں، نئی بہار کی ہوا چلے
chale bhī aao ki gulshan kārobār chale
آؤ بھی کہ باغ کا کاروبار چلے
qafas udaas hai yaaro sabā se kuchh to kaho
پنجرہ اداس ہے دوستو، ہوا سے کچھ تو کہو
kahīñ to bahr-e-ḳhudā aaj zikr-e-yār chale
کہیں تو خدا کے لیے آج محبوب کا ذکر ہو
kabhī to sub.h tire kunj-e-lab se ho āġhāz
کبھی تو صبح تیرے ہونٹ کے کنارے سے شروع ہو
kabhī to shab sar-e-kākul se mushk-bār chale
کبھی تو رات بالوں کی چوٹی سے خوشبو دار ہو
baḌā hai dard rishta ye dil ġharīb sahī
درد کا رشتہ بڑا ہے، یہ دل چاہے غریب ہو
tumhāre naam pe ā.eñge ġham-gusār chale
تمہارے نام پر غم بانٹنے والے آئیں گے
jo ham pe guzrī so guzrī magar shab-e-hijrāñ
جو ہم پر گزری سو گزری مگر جدائی کی رات
hamāre ashk tirī āqibat sañvār chale
ہمارے آنسو تمہاری آخرت سنوار دیں
huzūr-e-yār huī daftar-e-junūñ talab
محبوب کے سامنے جنون کی کتاب کی طلب ہوئی
girah meñ le ke garebāñ taar taar chale
گرہ میں لے کر گریبان کا تار تار چلیں
maqām 'faiz' koī raah meñ jachā nahīñ
فیض کا کوئی مقام راستے میں جچا نہیں
jo kū-e-yār se nikle to sū-e-dār chale
جو محبوب کی گلی سے نکلے تو پھانسی کی طرف چلیں
 

Explanation

یہ غزل فیض احمد فیض نے مونٹگمری جیل میں قید کے دوران لکھی تھی۔ اس میں شاعر نے آزادی کی خواہش اور محبوب سے جدائی کے درد کو بیان کیا ہے۔ پہلی لائن میں بہار کی آمد کا ذکر ہے جو خوشی اور امید کی علامت ہے۔ دوسری لائن میں شاعر اپنے محبوب کو بلاتا ہے کہ باغ کی رونق بحال ہو جائے۔ پنجرہ اداس ہے، یعنی شاعر کی قید کی حالت بیان کی گئی ہے۔ شاعر خدا سے دعا کرتا ہے کہ آج محبوب کا ذکر ہو۔ شاعر کی خواہش ہے کہ محبوب کی مسکراہٹ سے صبح کا آغاز ہو اور رات محبوب کے بالوں کی خوشبو سے معطر ہو۔ شاعر کا دل غریب ہے لیکن درد کا رشتہ مضبوط ہے۔ شاعر کے نام پر غمگسار آئیں گے۔ شاعر نے جدائی کی راتوں کی تکلیف کو بیان کیا ہے اور اس امید کا اظہار کیا ہے کہ اس کے آنسو محبوب کی عاقبت کو سنوار دیں گے۔ شاعر کو محبوب کے سامنے اپنے جنون کا دفتر پیش کرنے کی طلب ہے۔ آخر میں شاعر کہتا ہے کہ 'فیض' کا کوئی مقام نہیں جو محبوب کے کوچے سے نکل کر دار کی طرف چلا جائے۔

Word Dictionary23

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
guloñپھولوںپھولguloñ
rangرنگرنگتrang
bhareبھریںبھرناbhare
bād-e-nau-bahārنئی بہار کی ہوابہار کی تازہ ہواbaad-e-nau-bahaar
qafasپنجرہقید خانہ، جیلqafas
udaasاداسغمگین، مایوسudaas
sabāہواصبح کی ہواsabā
zikr-e-yārمحبوب کا ذکرمحبوب کی باتیںzikr-e-yār
kunj-e-labلب کا کنارہہونٹ کا کنارہkunj-e-lab
sar-e-kākulبالوں کا سربالوں کی چوٹیsar-e-kākul
mushk-bārخوشبو دارخوشبو سے بھرا ہواmushk-bār
ġharībغریبمفلس، نادارġharīb
ġham-gusārغم کا ساتھیغم بانٹنے والاġham-gusār
shab-e-hijrāñجدائی کی راتفراق کی راتshab-e-hijrāñ
āqibatانجامآخرت، نتیجہāqibat
huzūr-e-yārمحبوب کے سامنےمحبوب کی حضوریhuzūr-e-yār
daftar-e-junūñجنون کا دفتردیوانگی کی کتابdaftar-e-junūñ
girahگرہبندgirah
garebāñگریبانکپڑے کا کالرgarebāñ
tār tārچاک چاکپھٹا ہواtār tār
maqāmمقامجگہmaqām
kū-e-yārمحبوب کا کوچہمحبوب کی گلیkū-e-yār
sū-e-dārدار کی طرفپھانسی کی طرفsū-e-dār

Poet & Context

Era20th century

چودھری فیض احمد فیض (13 فروری 1911 – 20 نومبر 1984) ایک پاکستانی شاعر اور اردو و پنجابی ادب کے مصنف تھے۔ فیض اپنے وقت کے سب سے مشہور، مقبول اور بااثر اردو لکھاریوں میں سے ایک تھے، اور ان کے خیالات اور کام پاکستان، بھارت اور دنیا بھر میں وسیع پیمانے پر اثرانداز…

View on Wikipedia
When29 January 1954
WhyThis ghazal was written by Faiz Ahmed Faiz while he was imprisoned in Montgomery Jail. It reflects his longing for freedom and the emotional turmoil of separation from loved ones.
Formghazal

Themes & More

longingseparationfreedomlove
metaphor: 'guloñ meñ rang bhare' symbolizes hope and renewalimagery: 'sar-e-kākul se mushk-bār' creates a sensory image of fragrancepersonification: 'qafas udaas hai' gives human emotion to the cagealliteration: 'bād-e-nau-bahār' uses repeated 'b' sounds for musicality
Montgomery prison by Faiz Ahmed Faiz — Poem, Translation & Meaning