کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی

میر تقی میرUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی
ذرا میرے دیوانے کی فکر کرو
فھوم ہے پھر بہار انے کی
بہار کے آنے کا شور ہے
 

Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی غزل کا حصہ ہے جس میں شاعر اپنے دیوانگی کی فکر کرنے کی درخواست کر رہا ہے کیونکہ بہار کا موسم آنے والا ہے۔ بہار کا موسم خوشیوں کا پیغام لاتا ہے اور شاعر کو اس بات کی فکر ہے کہ اس کی دیوانگی کہیں اس خوشی کے موسم میں رکاوٹ نہ بن جائے۔ میر کی شاعری میں اکثر عشق اور دیوانگی کا ذکر ملتا ہے اور یہ شعر بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ شاعر کی دیوانگی کی فکر اور بہار کے آنے کی خوشی کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے جو انسانی جذبات کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

Word Dictionary6

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
کچھتھوڑاکسی حد تکkuchh
فکرپریشانیخیالfikr
دیوانےپاگلعاشقdiwaane
فھومسمجھجانناfahoom
بہارموسمِ بہارپھولوں کا موسمbahaar
انےآنےپہنچنےaane

Poet & Context

Era18th century

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق اٹھارویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں عشق، غم اور انسانی جذبات کی عکاسی ملتی ہے۔ میر کی شاعری کو اردو ادب میں ایک خاص مقام حاصل…

View on Wikipedia
When18th century
Whyیہ غزل میر تقی میر کی شاعری کا حصہ ہے جس میں وہ بہار کے آنے کی خوشی اور دیوانگی کی فکر کا اظہار کر رہے ہیں۔
Formغزل

Themes & More

دیوانگیبہارفکر
تشبیہ: بہار کا ذکر خوشیوں کے موسم کے طور پر کیا گیا ہےتضاد: دیوانگی کی فکر اور بہار کی خوشی کا تضاد
کچھ کرو فکر مجھ دیوانے کی by میر تقی میر — Poem, Translation & Meaning