ركي كرون ى جبتك جوى خول جارى نبين موتىكبهى فكرٍ نحن اكل به كل كارى نبي بوتى

Urdu22 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
ركي كرون ى جبتك جوى خول جارى نبين موتىكبهى فكرٍ نحن اكل به كل كارى نبي بوتى
جب تک کوئی خواب جاری نہیں ہوتا، موت کی کوئی فکر نہیں ہوتی
وه كولَى اورشى بوتى ي فن كارى ئبي،وتى
وہ کہانی اور شاعری کی فنکاری ابھی باقی ہے
نى بجإسكتامول خوو كوطنزيا رالت
مول کی خوشبو کو طنزیہ رات بجھا نہیں سکتی
بهانهاسكتى نيس جوانفس وآفاق كى يروى
جو نفس اور آفاق کی یروشلم کو بہا نہیں سکتی
تكريس كيا كرول مجهى رياكارى نبيس موتى
مجھے ریاکاری کی موت کی تکلیف نہیں ہوتی
بآس
آس
اى أس ول كوغيريت ك بيمارى نبير مولى
اے اس ول کو غیرت کی بیماری نہیں ہوتی
جوول عينيتِ آفاقى آكاه ،وتاب
جو آفاقی عینیت کو جانتا ہے
كبهى وحثت توبو سكتى ي بيزارى نبيس،وتى
کبھی وحدت بیزاری کی موت کو بو سکتی ہے
عدُوتى ستكدل سى بهى محبٍ نورعِ انسال كو
عداوت سے بھی محبت انسان کے نور کو
وُنيايس وه ي لوث عمخوارى نبيس بولىجوسر بم راه بوتوكولى وشوارى شيي مولى
دنیا ایسی نہیں بولی جو سر بم راہ بوتوکولى وشوارى شیی مولی
فقط باتى طلب ى قطع منزل سخت مشكلبي
فقط بات کی طلب کی منزل سخت مشکل ہے
فكرسى مرض يس راتى بهارى ئئيس موتى
فکر کی رات بہار کی موت ایسی ہے
يبالون هى جهكار بتاي بار نكته نجس
یہ بالون ہی جھکار بتاتی ہے بار نکتہ نجس
كب
کب
ييناجس كانه موخو وكامى وجلبِ مسرت؛
یہی ناجس کانہ موخو و کامی و جلبِ مسرت ہے
وبال جائدى ك تكرول كايد ستارى نبيس بوتى
وبال جائدی کی تکروک کاید ستاری نہیں بولی
نظر لو باكلاتى ي جبال كانِ حقائق كا
نظر لو باکلتی یہ جبال کانِ حقائق کا
يبال اسمالِ قاسدك خر يدارى نيي بولى
یہ بال اسمالِ قاسدک خر یداری نہیں بولی
أهالى جاوَ جترِ كيقباد وا فرِواراً
اہالی جاوَ جترِ کیقباد وا فرِواراً
كد خوش حالسى مالامال، تادارى تبيس موتى
کہ خوش حالسی مالامال، تاداری تبیس موتی
سبهى ميرى فراغت كويهى ويكمي جويد كتي بيس
سبھی میری فراغت کوئی وہی ویکمی جوید کتی بیس
 

Explanation

یہ نظم ایک جدید اردو نظم کی مثال ہے جس میں انسانی وجود، معاشرتی مسائل اور زندگی کی حقیقتوں پر غور کیا گیا ہے۔ شاعر نے خوابوں کی اہمیت اور ان کی عدم موجودگی میں موت کی بے فکری کا ذکر کیا ہے۔ نظم میں شاعری اور کہانی کی فنکاری کی بات کی گئی ہے جو ابھی باقی ہے۔ نظم میں طنزیہ رات، نفس اور آفاق کی یروشلم جیسے استعارے استعمال کیے گئے ہیں جو زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتے ہیں۔ نظم میں ریاکاری، غیرت، وحدت اور بیزاری جیسے موضوعات کو بھی چھوا گیا ہے۔ شاعر نے انسانی محبت اور دنیا کی حقیقتوں کو بھی بیان کیا ہے۔ نظم میں زندگی کی مشکلات اور ان کے حل کی تلاش کی بات کی گئی ہے۔

Word Dictionary15

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ركيرکناٹھہرنا یا توقف کرناrukii
كرونکروںعمل میں لانا یا انجام دیناkaroon
جبتكجب تکجب تک کہjab tak
خولخوابخیال یا تصورkhwaab
جاريجاریچلتا ہوا یا جاری رہناjaarii
نبيننہیںعدم یا انکارnahiin
موتىموتزندگی کا خاتمہmaut
فكرٍفکرسوچ یا پریشانیfikr
نحنہمہم لوگ یا ہم سبnahn
اكلکھاناغذا یا کھانا کھاناkhaana
كارىکاریعمل یا کامkaarii
نبينبیپیغمبر یا رسولnabii
بوتىبوتیپودا یا بیجboti
كولَىکہانیقصہ یا داستانkahaani
اورشىاور شاعریاور نظم یا غزلaur shaa'iri

Poet & Context

Poet
EraContemporary

یہ نظم اردو شاعری کی ایک مثال ہے، جو پاکستان اور ہندوستان کی ثقافت کا اہم حصہ ہے۔ اردو شاعری مختلف اصناف میں موجود ہے جیسے غزل، نظم، اور…

View on Wikipedia
WhenUnknown
WhyThe poem seems to explore themes of existential reflection and societal critique, which are common in contemporary Urdu poetry.
FormNazm

Themes & More

Existential reflectionSocietal critique
Metaphor: خواب کو جاری نہ ہونے کی صورت میں موت کی بے فکریImagery: طنزیہ رات، نفس اور آفاق کی یروشلمSymbolism: ریاکاری، غیرت، وحدت