مکھکی می ولی دی خیال خان تہ چی زہ بنہ پوہیرم

Pashto12 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
مکھکی می ولی دی خیال خان تہ چی زہ بنہ پوہیرم
میں کیوں خیال کرتا ہوں کہ میں نہیں سمجھتا
اوس دومرہ پوہ شو م پہ خان باندی چی زہ نہ
اب میں اتنا سمجھتا ہوں کہ میں نہیں
پوہیرم
سمجھتا
بس تہ پوہیری معالجی یے تہ حکم بادرہ
بس تم سمجھنے والے ہو، تم حکم دو
لۓ منتہا تر انتہا پوری قیوم بساد رہ
کہ انتہا تک پوری قیوم رہو
لۓ دبدبی شان او شکت چی ہفہ تا ورکری
کہ شان اور طاقت جو تم دیتے ہو
سرد د دومرہ لوئی طاقت چی ہفہ تا ورکری
سرد اتنی بڑی طاقت جو تم دیتے ہو
غیر پہ اورو بار دی چی انسان مسوولیت نہ اخلی
دوسروں پر بوجھ ہے کہ انسان ذمہ داری نہیں لیتا
توان بہ یے لڑی خُود گران گران مسوولیت نہ
تم خود بڑی بڑی ذمہ داریاں نہیں لیتے
اخلی
نہیں لیتے
چی ستا پہ ورزاندی دا خیال کرئی گناہونے
کہ تمہارے خیال میں یہ گناہ ہے
گورم
میں دیکھتا ہوں
 

Explanation

یہ نظم انسانی خیالات اور ذمہ داریوں کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر اپنی سوچ کا اظہار کرتا ہے کہ وہ کیوں سمجھتا ہے کہ وہ کچھ نہیں جانتا۔ "مکھکی می ولی دی خیال خان تہ چی زہ بنہ پوہیرم" میں شاعر اپنی بے بسی کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اپنے خیالات کو سمجھنے میں ناکام ہے۔ اس کے بعد وہ کہتا ہے کہ وہ اب اتنا سمجھتا ہے کہ وہ کچھ نہیں سمجھتا، جو کہ ایک گہرے احساس کی عکاسی کرتا ہے۔

نظم کے دوسرے حصے میں شاعر معالج کی طرح اپنی سوچ کو پیش کرتا ہے، کہ وہ سمجھنے کی کوشش کرتا ہے اور اس کے لیے حکم دیتا ہے کہ وہ پوری قیوم رہے۔ "بس تہ پوہیری معالجی یے تہ حکم بادرہ" میں شاعر اپنی سمجھ بوجھ کی طلب کرتا ہے۔ یہ ایک طرح سے انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کی طرف اشارہ کرتا ہے، جہاں انسان اپنی طاقت اور شان کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔

شاعر اس بات پر بھی غور کرتا ہے کہ انسانوں پر ذمہ داریوں کا بوجھ ہے، لیکن وہ ان ذمہ داریوں کو قبول نہیں کرتے۔ "غیر پہ اورو بار دی چی انسان مسوولیت نہ اخلی" میں وہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لوگ اپنی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ انسان کو اپنی ذمہ داریوں کو قبول کرنا چاہیے۔

آخر میں، شاعر اپنے خیالات کے گناہ ہونے کی بات کرتا ہے، جو کہ ایک گہرا فلسفیانہ سوال ہے۔ یہ نظم انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی عکاسی کرتی ہے اور ہمیں اپنی ذمہ داریوں کی اہمیت کو سمجھنے کی دعوت دیتی ہے۔

Word Dictionary61

WordIn PashtoIn UrduPron.
مکھکیخیالسوچmakhki
میمیںمیںme
ولیکیوںکیوںwali
دیکہکہdi
خیالخیالخیالkhayal
خانتمتمkhan
تہکہکہta
چیکہکہchi
زہنہیںنہیںza
بنہنہیںنہیںbana
پوہیرمسمجھتاسمجھتاpohiram
اوسابابos
دومرہبڑیبڑیdomra
پوہسمجھسمجھpoh
شوہواہواsho
ممیںمیںm
پہپرپرpa
باندیپرپرbandi
نہنہیںنہیںna
بسصرفصرفbas
پوہیریسمجھنےسمجھنےpohiri
معالجیمعالجعلاج کرنے والاmalaji
یےیہیہye
حکمحکمحکمhukm
بادرہدودوbadra
لۓکے لیےکے لیےlay
منتہاانتہاانتہاmuntaha
ترتکتکtar
انتہاانتہاانتہاintaha
پوریپوریپوریpuri
قیومقیومقیومqiyoom
بسادرہورہوbasad
رہرہورہوrah
دبدبیدبدبیدبدبیdabdabi
شانشانشانshan
اواوراورo
شکتطاقتطاقتshakt
ہفہجوجوhafa
تاتمتمta
ورکریدیتے ہودیتے ہوworkri
سردسردسردsard
دکیکیd
لوئیبڑیبڑیloyi
طاقتطاقتطاقتtaqat
غیردوسروںدوسروںghair
اوروبوجھبوجھoro
بارہےہےbar
انسانانسانانسانinsaan
مسوولیتذمہ داریذمہ داریmasooliyat
اخلیلیتالیتاakhli
توانتمتمtawan
بہہوہوba
لڑیلڑائیلڑائیladi
خُودخودخودkhud
گرانبڑیبڑیgaran
ستاتمہارےتمہارےsta
ورزاندیخیالخیالwarzandi
دایہیہda
کرئیکرتاکرتاkarai
گناہونےگناہگناہgunahone
گورمدیکھتا ہوںدیکھتا ہوںgorem

Poet & Context

Poet
EraContemporary

پشتو ادب کی کئی معروف شاعروں کی موجودگی کے باوجود، اس مخصوص نظم کے شاعر کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ نظم جدید دور کی شاعری کی ایک مثال ہے جس میں انسانی جذبات اور خیالات کی عکاسی کی گئی…

View on Wikipedia
WhenContemporary period
Whyیہ نظم انسانی احساسات، ذمہ داریوں اور خیالات کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر نے انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا ہے اور ان کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
Formنظم

Themes & More

ذمہ داریانسانی احساسات
استعارہ: شاعر نے انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کیا ہے۔تکرار: کچھ الفاظ کی تکرار سے نظم کی شدت میں اضافہ ہوتا ہے۔
مکھکی می ولی دی خیال خان تہ چی زہ بنہ پوہیرم by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning