Ανάλυση ποίησης

تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں

اسفا ز رحمانیUrdu12 στίχοι1 δημόσιες αναλύσεις
Original Poetry
Translation
نہیں ہے اب کوئی شکایت تم سے
اب تم سے کوئی شکایت نہیں ہے
تو رکھ دوسروں کو خوش ہم تنہا ہی اچھے ہے
تو دوسروں کو خوش رکھ، ہم اکیلے ہی اچھے ہیں
تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں
تم سے شکوہ نہیں، کوئی شکایت نہیں
اور اس ترک تعلق کی وضاحت بھی نہیں
اور اس تعلق کے ختم ہونے کی وضاحت نہیں ہے
یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مری
یادیں میری وراثت ہیں، یہ امانت ہیں
وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں
وہ تو محفوظ ہیں، اب ان کی عنایت نہیں ہے
جب مری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی
جب میری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی
ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں
ہنس کر بولے، تجھے کوئی حاجت نہیں ہے
تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دل
یہ معصوم سا دل تلخ یادوں کا خزانہ ہے
تلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت بھی نہیں
تلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے
آصفہؔ صرف ہے کہنے کے لئے دل میرا
آصفہؔ، یہ صرف کہنے کے لئے ہے میرا دل
اب مگر دل پہ مرے میری حکومت بھی نہیں
اب مگر دل پر میری حکومت نہیں ہے
 

Explanation

اسفا ز رحمانی کی یہ غزل انسانی جذبات کی عکاسی کرتی ہے، جہاں شاعر نے شکوے اور یادوں کی گہرائی کو بیان کیا ہے۔ پہلی لائن میں شاعر کہتا ہے کہ 'نہیں ہے اب کوئی شکایت تم سے'، یعنی وہ اپنے دل کی حالت کو بیان کرتے ہیں کہ اب ان کے دل میں کوئی شکوہ نہیں ہے۔ یہ ایک طرح کی قبولیت کی علامت ہے، جہاں وہ دوسروں کو خوش رکھنے کی بات کرتے ہیں، حالانکہ وہ خود اکیلے ہیں۔

دوسری قافیہ میں، شاعر کہتا ہے 'تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں'، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تعلق میں دراڑ آ چکی ہے، لیکن اس کی وضاحت بھی نہیں کی گئی۔ یہ ایک گہری جذباتی کیفیت کو بیان کرتا ہے، جہاں تعلق کی نوعیت کو سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

یادیں، جو شاعر کی میراث ہیں، ان کو امانت قرار دیا گیا ہے۔ 'وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں'، اس لائن میں شاعر اپنی یادوں کی حفاظت کی بات کرتے ہیں، جو کہ ان کے دل میں محفوظ ہیں، لیکن ان کی عنایت اب ختم ہو چکی ہے۔

غزل کے آخری حصے میں، شاعر اپنے دل کی حالت کو بیان کرتے ہیں کہ 'تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دل'، جو کہ ایک معصوم دل کی تلخی کو ظاہر کرتا ہے۔ آخر میں، شاعر یہ کہتے ہیں کہ اب ان کے دل پر کوئی حکومت نہیں ہے، جو کہ ان کی جذباتی حالت کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ غزل انسانی جذبات کی پیچیدگیوں کو خوبصورتی سے بیان کرتی ہے۔

Word Dictionary63

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
نہیںنہیںکوئی بات نہیںnahiin
ہےہےہےhai
ابابابab
کوئیکوئیکوئیkoii
شکایتشکایتشکایتshikayat
تمتمتمtum
سےسےسےse
توتوتوto
رکھرکھرکھrakh
دوسروںدوسروںدوسروںdoosron
کوکوکوko
خوشخوشخوشkhush
ہمہمہمhum
تنہااکیلےاکیلےtanha
ہیصرفصرفhi
اچھےاچھےاچھےachche
اوراوراورaur
اساساسis
ترکچھوڑناچھوڑناtark
تعلقرشتہرشتہta'alluq
کیکیکیki
وضاحتوضاحتوضاحتwazahat
بھیبھیبھیbhi
یادیادیادyaad
میراثوراثتوراثتviraasat
یادیںیادیںیادیںyaadein
امانتامانتامانتamaanat
ہیںہیںہیںhain
مریمیریمیریmeri
وہوہوہwoh
محفوظمحفوظمحفوظmahfooz
انانانin
عنایتعنایتعنایتinaayat
جبجبجبjab
گردشچکرچکرgardish
دوراںدنیادنیاdawraan
ملاقاتملاقاتملاقاتmulaqat
ہوئیہوئیہوئیhui
ہنسہنسناہنسناhans
کےکےکےke
بولےبولنابولناbole
تجھےتمہیںتمہیںtujhe
حاجاتضرورتیںضرورتیںhajaat
کفایتکفایتکفایتkifayat
تلخکڑواکڑواtalakh
یادوںیادیںیادیںyaadon
کاکاکاka
دفینہخزانہخزانہdafeena
یہیہیہye
معصومبے گناہبے گناہma'soom
ساجیساجیساsa
دلدلدلdil
ہمیںہمیںہمیںhumein
آصفہؔآصفہآصفہAasifah
صرفصرفصرفsirf
کہنےکہنےکہنےkehne
لیےکے لئےکے لئےliye
میرامیرامیراmera
مگرلیکنلیکنmagar
پہپرپرpe
مرےمیرےمیرےmere
میریمیریمیریmeri
حکومتحکومتحکومتhukoomat

Poet & Context

Eraمعاصر

اسفا ز رحمانی ایک معاصر اردو شاعر ہیں جن کی شاعری میں عشق، جدائی اور انسانی جذبات کی عکاسی کی گئی ہے۔ ان کی شاعری میں گہرائی اور احساس کی شدت نمایاں…

View on WikipediaΔείτε στο rekhta.org
Whenمعاصر دور
Whyیہ غزل انسانی جذبات، شکوے اور یادوں کی عکاسی کرتی ہے، جو کہ شاعر کے ذاتی تجربات سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے۔
Formغزل

Themes & More

شکایتیادیںمحبتتنہائی
metaphor: دل کو معصوم سا کہا گیا ہے، جو کہ یادوں کا خزانہ ہےrepetition: 'نہیں' کا بار بار استعمال، جو کہ شاعر کی مایوسی کو ظاہر کرتا ہے
تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں — اسفا ز رحمانی | Ανάλυση AI