تجزیہ شدہ نظمیں دیکھیں — اصل متن، ترجمہ اور AI وضاحت؛ شاعر، زبان یا صورت سے فلٹر کریں۔
زبان
یہ گدا گروں کی ہیں بستیاں یہاں چشم پوشی گناہ ہے
وہی جعاب انکھوں میں ڈال رے جو نشاط شام وصال دے
اک شمع بجھائ تو کئ اور جلا لیں
جو جھیل گۓ ہنس کے کڑی دھوپ کے تیور
تھے کتنے ستارے کے سرشام ہی ڈوبے
جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے
یہ فخر تو حاصل ہے برے ہے کے بھلے ہے
پتھر کو گوہر کہ کہ کر
ادمی ادمی سے ملتا ہے
ہوا میرا ریشا امید وہ نخل سر سبز
Ziua, răsturnată,