گل رنگیں
یہ نظم علامہ اقبال کی فکر کی ایک خوبصورت مثال ہے جس میں انہوں نے فطرت اور انسان کی داخلی کیفیت کو بیان کیا ہے۔ نظم کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ شاعر ایک خوبصورت پھول سے مخاطب ہے اور کہتا ہے کہ تم مشکل مسائل کو سمجھنے والے نہیں ہو۔ یہاں شاعر نے پھول کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے جو کہ خوبصورتی اور بے حسی کی علامت ہے۔
نظم کے دوسرے حصے میں شاعر اپنی آرزوؤں کی شدت کو بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی زندگی مکمل طور پر آرزو کی تپش اور ساز سے بھری ہوئی ہے جبکہ پھول کی زندگی آرزو کی نرمی سے خالی ہے۔ یہاں شاعر نے اپنی داخلی کیفیت کو فطرت کے عناصر کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا ہے۔
نظم کی جذباتی قوس میں شاعر کی کیفیت مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ ابتدا میں شاعر کی بے چینی اور آرزو کی شدت ہے، جو آخر میں ایک فلسفیانہ سکون اور قبولیت کی طرف مائل ہوتی ہے۔ نظم کا لہجہ فلسفیانہ اور عمیق ہے۔
شاعر نے اس نظم میں استعارہ، تشبیہ، اور تکرار جیسے ادبی وسائل کا استعمال کیا ہے جو نظم کی گہرائی کو بڑھاتے ہیں۔ مثلاً، 'پھول' کو بے حسی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جبکہ 'آرزو' کو زندگی کی تپش اور ساز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔
نظم کی اہمیت اس کے فلسفیانہ پیغام میں مضمر ہے جو انسان کی داخلی کیفیت اور فطرت کے ساتھ اس کے تعلق کو بیان کرتا ہے۔ یہ نظم علامہ اقبال کی فطرت سے متاثرہ شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے جو ان کے دورِ اول کی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔
| Word | Easy Meaning | Translation | Pron. |
|---|---|---|---|
| شناسائے | واقف | جاننے والا | shanaasaa'e |
| خراشِ | زخم | چوٹ | kharaash-e |
| عقدۂ | گرہ | مسئلہ | uqda |
| زیب | زینت | خوبصورتی | zaeb |
| شورشِ | ہنگامہ | شور | shorish-e |
| فراقِ | جدائی | الگ ہونا | firaaq-e |
| بزمِ | محفل | اجتماع | bazm-e |
| سوز و ساز | تپش اور ساز | گرمی اور موسیقی | soz-o-saaz |
| گداز | نرمی | ملائمت | gudaaz |
| نگاہ | نظر | دیکھنا | nigaa'h |
| صورت بیں | ظاہری دیکھنے والا | ظاہر پر نظر رکھنے والا | soorat been |
| دست جفا | ظلم کرنے والا ہاتھ | ظالم ہاتھ | dast e jafa |
| گلچیں | پھول توڑنے والا | پھول چننے والا | gulcheen |
| دیدہ | آنکھ | دیکھنے والا | deedah |
| راز | بھید | چھپی ہوئی بات | raaz |
| مستور | چھپا ہوا | پوشیدہ | mastoor |
| ریاض | باغ | چمن | riyaaz |
| مطمئن | پرسکون | سکون میں | mutma'in |
| پریشان | بے چین | الجھن میں | pareshan |
| زخمی | چوٹ کھایا ہوا | زخم زدہ | zakhmi |
| شمشیر | تلوار | خنجر | shamsheer |
| جستجو | تلاش | کھوج | justuju |
| جمعیت | اجتماع | اکٹھ | jam'iyyat |
| جگر سوزی | دل کی جلن | دل کا دکھ | jigar sozi |
| چراغ خانہ | گھر کا چراغ | روشنی کا ذریعہ | chiraagh khaana |
| ناتوانی | کمزوری | طاقت کی کمی | naatwani |
| رشک | حسد | جلن | rashk |
| جام جم | جام کا پیالہ | شراب کا پیالہ | jaam-e-jam |
| آئینے حیرت | حیرت کا آئینہ | تعجب کا عکس | aa'ina-e-hairat |
| تلاش متصل | مسلسل تلاش | لگاتار کھوج | talaash mutasil |
| شمع جےان افروز | زندگی کی روشنی | حیات کی روشنی | shama-e-jaan-afroz |
| توسن ادراک | عقل کا گھوڑا | فہم کا ذریعہ | tousan idraak |
| خرام آموز | چلنے کا طریقہ سکھانے والا | چلنا سکھانے والا | kharaam-aamooz |
علامہ اقبال بیسویں صدی کے ایک مشہور شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیداری اور خودی کی طرف مائل کیا۔
View on Wikipedia