گل رنگیں

علامہ اقبالUrdu24 lines1 public analyses

Rekhta · Open source

Original Poetry
Translation
تو شناسائے خراشِ عقدۂ مشکل نہیں
تم مشکل مسائل کو سمجھنے والے نہیں ہو
اے گل رنگیں ترے پہلو میں شاید دل نہیں
اے خوبصورت پھول، شاید تمہارے پاس دل نہیں ہے
زیب محفل ہیں شریک شورشِ محفل نہیں
تم محفل کی زینت ہو، لیکن محفل کی ہنگامہ آرائی میں شریک نہیں ہو
یہ فراقِ بزمِ ہستی میں مجے حاصل نہیں
یہ دنیا کی محفل میں مجھے سکون نہیں ملتا
اس چمن میں میں سراپا سوز و ساز آرزو
اس باغ میں، میں مکمل طور پر آرزو کی تپش اور ساز ہوں
اور تیری زندگانی بے گداز آرزو
اور تمہاری زندگی آرزو کی نرمی کے بغیر ہے
توڈ لینا شاخ سے تگہ مرا آئیں نیں
شاخ سے توڑنا میری عادت نہیں ہے
یے نظر غیر از نگاہ چشم صورت بیں نیں
یہ نظر عام آنکھ سے مختلف ہے
آہ یہ دست جفا جو اے گل رنگیں نیں
آہ، یہ ظلم کرنے والا ہاتھ اے خوبصورت پھول
کس طرح تجہ گیہ سمجہاؤں کے میں گلچیں نیں
میں تمہیں کیسے سمجھاؤں کہ میں پھول توڑنے والا نہیں ہوں
کام مجکہ دیدہ حکمت کے الجھیڈوں سے کیا
میری عقل کی آنکھوں کا کام کیا ہے
دیدہ بلبل سے میں کرتا ہوں نظارہ ترا
میں بلبل کی نظر سے تمہارا نظارہ کرتا ہوں
سو زبانوں پر بی خاموشی تجے منظور ہیں
سو زبانوں پر بھی خاموشی تمہیں قبول ہے
راز وی کیا ہی تری سینے میں جو مستور ہی
کیا راز ہے جو تمہارے سینے میں چھپا ہوا ہے
میری صورت تو بی اک برگ ریاض طور ہی
میری صورت بھی ایک باغ کے پتے کی طرح ہے
میں چمن سے دور ہوں تو بی چمن سے دور ہی
میں باغ سے دور ہوں، تم بھی باغ سے دور ہو
مطمئن ہی تو پریشان مثل بو رےحتا ہوں میں
میں مطمئن ہوں، لیکن ہوا کی طرح پریشان رہتا ہوں
زخمی شمشیر ذوق جستجو رےےحتا ہوں میں
میں جستجو کی تلوار سے زخمی رہتا ہوں
یہ پریشانی مری سامان جمعیت نے ہو
یہ پریشانی میری جمعیت کا سامان نہ ہو
یہ جگر سوزی چراغ خانہ حکمت نے ہو
یہ دل کی جلن حکمت کے گھر کا چراغ نہ ہو
ناتوانی یہ مری سامایہ قوت نے ہو
یہ میری کمزوری قوت کا سرمایہ نہ ہو
رشک جام جم مرا آئینے حیرت نے ہو
جام جم کی حسد میرا حیرت کا آئینہ نہ ہو
یہ تلاش متصل شمع جےان افروز ہی
یہ مسلسل تلاش زندگی کی روشنی ہے
توسن ادراک انسان کو خرام آموز ہو
انسان کی عقل کو چلنے کا طریقہ سکھاتی ہے
 

Explanation

یہ نظم علامہ اقبال کی فکر کی ایک خوبصورت مثال ہے جس میں انہوں نے فطرت اور انسان کی داخلی کیفیت کو بیان کیا ہے۔ نظم کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ شاعر ایک خوبصورت پھول سے مخاطب ہے اور کہتا ہے کہ تم مشکل مسائل کو سمجھنے والے نہیں ہو۔ یہاں شاعر نے پھول کو ایک استعارے کے طور پر استعمال کیا ہے جو کہ خوبصورتی اور بے حسی کی علامت ہے۔

نظم کے دوسرے حصے میں شاعر اپنی آرزوؤں کی شدت کو بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ اس کی زندگی مکمل طور پر آرزو کی تپش اور ساز سے بھری ہوئی ہے جبکہ پھول کی زندگی آرزو کی نرمی سے خالی ہے۔ یہاں شاعر نے اپنی داخلی کیفیت کو فطرت کے عناصر کے ساتھ جوڑ کر بیان کیا ہے۔

نظم کی جذباتی قوس میں شاعر کی کیفیت مختلف مراحل سے گزرتی ہے۔ ابتدا میں شاعر کی بے چینی اور آرزو کی شدت ہے، جو آخر میں ایک فلسفیانہ سکون اور قبولیت کی طرف مائل ہوتی ہے۔ نظم کا لہجہ فلسفیانہ اور عمیق ہے۔

شاعر نے اس نظم میں استعارہ، تشبیہ، اور تکرار جیسے ادبی وسائل کا استعمال کیا ہے جو نظم کی گہرائی کو بڑھاتے ہیں۔ مثلاً، 'پھول' کو بے حسی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، جبکہ 'آرزو' کو زندگی کی تپش اور ساز کے ساتھ جوڑا گیا ہے۔

نظم کی اہمیت اس کے فلسفیانہ پیغام میں مضمر ہے جو انسان کی داخلی کیفیت اور فطرت کے ساتھ اس کے تعلق کو بیان کرتا ہے۔ یہ نظم علامہ اقبال کی فطرت سے متاثرہ شاعری کی ایک عمدہ مثال ہے جو ان کے دورِ اول کی فکر کی عکاسی کرتی ہے۔

Word Dictionary33

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
شناسائےواقفجاننے والاshanaasaa'e
خراشِزخمچوٹkharaash-e
عقدۂگرہمسئلہuqda
زیبزینتخوبصورتیzaeb
شورشِہنگامہشورshorish-e
فراقِجدائیالگ ہوناfiraaq-e
بزمِمحفلاجتماعbazm-e
سوز و سازتپش اور سازگرمی اور موسیقیsoz-o-saaz
گدازنرمیملائمتgudaaz
نگاہنظردیکھناnigaa'h
صورت بیںظاہری دیکھنے والاظاہر پر نظر رکھنے والاsoorat been
دست جفاظلم کرنے والا ہاتھظالم ہاتھdast e jafa
گلچیںپھول توڑنے والاپھول چننے والاgulcheen
دیدہآنکھدیکھنے والاdeedah
رازبھیدچھپی ہوئی باتraaz
مستورچھپا ہواپوشیدہmastoor
ریاضباغچمنriyaaz
مطمئنپرسکونسکون میںmutma'in
پریشانبے چینالجھن میںpareshan
زخمیچوٹ کھایا ہوازخم زدہzakhmi
شمشیرتلوارخنجرshamsheer
جستجوتلاشکھوجjustuju
جمعیتاجتماعاکٹھjam'iyyat
جگر سوزیدل کی جلندل کا دکھjigar sozi
چراغ خانہگھر کا چراغروشنی کا ذریعہchiraagh khaana
ناتوانیکمزوریطاقت کی کمیnaatwani
رشکحسدجلنrashk
جام جمجام کا پیالہشراب کا پیالہjaam-e-jam
آئینے حیرتحیرت کا آئینہتعجب کا عکسaa'ina-e-hairat
تلاش متصلمسلسل تلاشلگاتار کھوجtalaash mutasil
شمع جےان افروززندگی کی روشنیحیات کی روشنیshama-e-jaan-afroz
توسن ادراکعقل کا گھوڑافہم کا ذریعہtousan idraak
خرام آموزچلنے کا طریقہ سکھانے والاچلنا سکھانے والاkharaam-aamooz

Poet & Context

EraEarly 20th century

علامہ اقبال بیسویں صدی کے ایک مشہور شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیداری اور خودی کی طرف مائل کیا۔

View on Wikipedia
WhenEarly 20th century
Whyیہ نظم علامہ اقبال کی فطرت سے متاثرہ شاعری کی ایک مثال ہے، جو انہوں نے اپنے دورِ اول میں لکھی۔
FormNazm

Themes & More

فطرتانسانی کیفیتآرزوفلسفہ
استعارہ: 'پھول' کو بے حسی کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہےتشبیہ: 'آرزو کی تپش اور ساز' کو زندگی کے ساتھ جوڑا گیا ہےتکرار: نظم میں مختلف مقامات پر الفاظ کی تکرار کی گئی ہے
گل رنگیں by علامہ اقبال — Poem, Translation & Meaning