Loading
تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیںTum se shikwa bhi nahi koi shikayat bhi nahi
نہیں ہے اب کوئی شکایت تم سے تو رکھ دوسروں کو خوش ہم تنہا ہی اچھے ہے
تم سے شکوہ بھی نہیں کوئی شکایت بھی نہیں اور اس ترک تعلق کی وضاحت بھی نہیں
یاد میراث ہے یادیں ہی امانت ہیں مری وہ تو محفوظ ہیں اب ان کی عنایت بھی نہیں
جب مری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی ہنس کے بولے تجھے حاجات کفایت بھی نہیں
تلخ یادوں کا دفینہ ہے یہ معصوم سا دل تلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت بھی نہیں
آصفہؔ صرف ہے کہنے کے لئے دل میرا اب مگر دل پہ مرے میری حکومت بھی نہیں
اب تم سے کوئی شکایت نہیں ہے تو دوسروں کو خوش رکھ، ہم اکیلے ہی اچھے ہیں
تم سے شکوہ نہیں، کوئی شکایت نہیں اور اس تعلق کے ختم ہونے کی وضاحت نہیں ہے
یادیں میری وراثت ہیں، یہ امانت ہیں وہ تو محفوظ ہیں، اب ان کی عنایت نہیں ہے
جب میری گردش دوراں سے ملاقات ہوئی ہنس کر بولے، تجھے کوئی حاجت نہیں ہے
یہ معصوم سا دل تلخ یادوں کا خزانہ ہے تلخ یادوں سے ہمیں کوئی شکایت نہیں ہے
آصفہؔ، یہ صرف کہنے کے لئے ہے میرا دل اب مگر دل پر میری حکومت نہیں ہے