Loading
سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر گذشتSardiyon ki aik shaam Malik Makaan ne Master Ilyas ko bade sakht alfaaz mein daanta aur dhamki di ke agar us ne teen din ke andar andar guzasht
سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر گذشتہ چھے ماہ کا کرایہ ایک ساتھ ادانہ کیا تو وہ اس کا سامان نکال کر باہر پھینک دے گا۔ ماسٹر جی کی خوف کے مارے بندھ گئی۔ کیوں کہ ان کے پاس ایک سواسی روپے یک مشت موجود نہیں تھے۔ صرف چالیس روپے تھے ، جن کے ساتھ دس کا ایک نوٹ اور پر ذکر انھوں نے پچاس بنا لیے تھے۔ پہلے تو مالک مکان بچیں، تیں، چالیس، پچاس لے کر آگے کی تاریخ دے دیا کرتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ وہ ترنگ ہو گیا اور اس نے دھاگے میں پروئے ہوئے پچاس روپے اصیل مرغے کے آگے پھینک کر کہا جا اوئے ! میں نہیں لیتا۔ مجھے پورے ایک سواسی کر کے دے۔“
سردیوں کی ایک شام، مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر تین دن میں چھے ماہ کا کرایہ ادا نہ کیا تو وہ سامان باہر پھینک دے گا۔ ماسٹر جی خوفزدہ ہو گئے کیونکہ ان کے پاس ایک سواسی روپے نہیں تھے۔ ان کے پاس صرف چالیس روپے تھے، جنہیں دس کا نوٹ شامل کر کے پچاس بنایا تھا۔ پہلے مالک مکان چالیس یا پچاس لے کر آگے کی تاریخ دے دیتا تھا۔ لیکن اس بار وہ ضد پر آ گیا اور پچاس روپے مرغے کے آگے پھینک کر کہا کہ پورے ایک سواسی دے۔