Loading
مجھ کو میرے جیسا کوئی کیوں نظر آتا نہیںmjh kw myre jys kwiy kywn ndhr at nhyn
مجھ کو میرے جیسا کوئی کیوں نظر آتا نہیں کوئی بھی اس کربِ جاں کا رخ بدل سکتا نہیں؟ ہم مزاجِ ذات کی حسرت میں پگھلی زندگی اجنبی انسان دل کو ذرہ بھر بھاتا نہیں بھیڑ کے اس شور میں باطن اکیلا ہی رہا ہم سفر مہموم رُوحوں کو یہاں سجتا نہیں چاہتا ہے دل مماثل ہی نفس، لیکن یہاں ڈھونڈنے سے ہم نشیں ہم رنگ دکھلاتا نہیں دردِ تنہائی بنا ہے مستقل پہچانِ جاں راز دارِ غم کوئی قاسمؔ سحر لاتا نہیں
مجھے میرے جیسا کوئی کیوں نظر نہیں آتا کوئی بھی اس دل کی تکلیف کا رخ نہیں بدل سکتا ہم مزاج کی خواہش میں زندگی ختم ہو گئی اجنبی انسان دل کو ذرا بھی نہیں بھاتا بھیڑ کے شور میں اندرونی طور پر اکیلا رہا ہم سفر غمگین روحوں کو یہاں نہیں سجتا دل چاہتا ہے کہ کوئی ہم نفس ہو، لیکن یہاں ڈھونڈنے سے بھی ہم رنگ ہم نشیں نہیں ملتا تنہائی کا درد ہمیشہ دل کی پہچان بن گیا ہے غم کا رازدار کوئی قاسمؔ صبح نہیں لاتا