پھول ہے صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار

علامہ اقبالUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
پھول ہے صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار
صحرا میں پھول ہیں یا پریاں قطار میں
اودے اودے نیلے نیلے پیلے پیلے پیرہن
ہلکے نیلے، پیلے، اور ہلکے جامنی رنگ کے کپڑے
 

Explanation

یہ اشعار علامہ اقبال کی ایک غزل سے ہیں، جس میں انہوں نے صحرا کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے۔ صحرا میں پھولوں کی موجودگی کو پریوں کی قطار سے تشبیہ دی گئی ہے، جو کہ ایک خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ اودے، نیلے، اور پیلے رنگ کے لباس ان پھولوں کی رنگینی کو ظاہر کرتے ہیں۔ اقبال کی شاعری میں اکثر قدرتی مناظر کو فلسفیانہ خیالات کے اظہار کے لئے استعمال کیا جاتا ہے، اور یہ اشعار بھی اسی روایت کا حصہ ہیں۔ اس میں رنگوں کی خوبصورتی اور ان کی ترتیب کو ایک خاص انداز میں پیش کیا گیا ہے، جو کہ قاری کو قدرت کی رنگینیوں کی طرف متوجہ کرتا ہے۔

Word Dictionary7

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
صحراریگستانریگستان یا بیابان، جہاں ریت ہوتی ہےsahraa
پریاںپریخوبصورت خیالی مخلوقpariyaan
قطارلائنایک سیدھی لائن میں کھڑے ہونے کی حالتqataar
اودےہلکے جامنیہلکے جامنی رنگ کاoday
نیلےآسمانی رنگآسمان کی طرح نیلا رنگneelay
پیلےزردپیلا رنگpeelay
پیرہنلباسکپڑےpairahan

Poet & Context

EraLate 19th to early 20th century

علامہ اقبال اردو کے مشہور شاعر اور فلسفی تھے، جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے علیحدہ ریاست کا خواب دیکھا۔ ان کی شاعری میں فلسفہ، خودی اور قوم پرستی کے موضوعات نمایاں…

View on Wikipedia
WhenEarly 20th century
WhyThis poem reflects Iqbal's vision of beauty and nature, often using metaphors to express deeper philosophical ideas.
FormGhazal

Themes & More

NatureBeautyMetaphor
Metaphor: صحرا میں پھولوں کو پریوں سے تشبیہ دی گئی ہےImagery: رنگوں کی خوبصورتی کو بیان کیا گیا ہے
پھول ہے صحرا میں یا پریاں قطار اندر قطار by علامہ اقبال — Poem, Translation & Meaning