زخم بھر جائیں گے کسی روز

Urdu7 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
زخم بھر جائیں گے کسی روز
زخم ایک دن بھر جائیں گے
بخت سنور جائیں گے کسی روز
قسمت ایک دن بہتر ہو جائے گی
خود سے کیے وعدوں کو توڑ کر
اپنے وعدے توڑ کر
ہم بھی مکر جائیں گے کسی روز
ہم بھی ایک دن بدل جائیں گے
دل میرے میں اب کیا بچا ہے
میرے دل میں اب کیا بچا ہے
وہ دل سے اتر جائیں گے کسی روز
وہ بھی ایک دن دل سے اتر جائیں گے
بکھر جائیں گے کسی روز گھر جائیں گے کسی روز مر جائیں گے کسی روز ڈر جائیں گے کسی روز بھر جائیں گے کسی روز لڑ جائیں گے کسی روز بکھر جائیں گے کسی روز نکھر جائیں گے کسی روز
ہم بکھر جائیں گے کسی دن گھر جائیں گے کسی دن مر جائیں گے کسی دن ڈر جائیں گے کسی دن پُر جائیں گے کسی دن لڑ جائیں گے کسی دن بکھر جائیں گے کسی دن صاف ہو جائیں گے کسی دن
 

Explanation

یہ نظم انسانی زندگی کی ناپائیداری اور جذبات کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے مختلف جذباتی حالتوں کو بیان کیا ہے جیسے زخم بھرنا، قسمت سنورنا، اور وعدے توڑنا۔ ہر شعر میں ایک دن کی امید یا خوف کا اظہار ہے۔

پہلے شعر میں زخم بھرنے کی بات کی گئی ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہو جائیں گے۔ دوسرے شعر میں قسمت کے سنورنے کی امید ہے۔ تیسرے شعر میں وعدے توڑنے کی بات کی گئی ہے جو انسان کی فطرت کا حصہ ہے۔ چوتھے شعر میں دل کی حالت بیان کی گئی ہے کہ اب اس میں کچھ باقی نہیں رہا۔

نظم کے باقی اشعار میں مختلف جذباتی حالتوں کا ذکر ہے جیسے بکھرنا، گھر جانا، مرنا، ڈرنا، بھرنا، لڑنا، اور نکھرنا۔ یہ سب انسانی زندگی کے مختلف مراحل اور جذبات کی عکاسی کرتے ہیں۔

نظم میں تکرار کا استعمال کیا گیا ہے جو انسانی زندگی کی مسلسل تبدیلیوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ہر شعر میں ایک خاص جذباتی حالت کا ذکر ہے جو زندگی کی ناپائیداری کو بیان کرتی ہے۔

یہ نظم انسانی زندگی کی ناپائیداری اور جذبات کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔ شاعر نے مختلف جذباتی حالتوں کو بیان کیا ہے جیسے زخم بھرنا، قسمت سنورنا، اور وعدے توڑنا۔ ہر شعر میں ایک دن کی امید یا خوف کا اظہار ہے۔

Word Dictionary11

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
زخمچوٹجسم پر لگنے والی چوٹzakhm
بھرپُرمکمل ہوناbhar
بختقسمتنصیبbakht
سنورسُدھربہتر ہوناsanwar
وعدوںقولعہدwa'don
مکربدلانکار کرناmukar
بکھرپھیلٹوٹ جاناbikhar
گھرواپساپنی جگہghar
ڈرخوفخوفزدہ ہوناdar
لڑجھگڑلڑائی کرناlar
نکھرصافخوبصورت ہوناnikhar

Poet & Context

Poet
EraContemporary

اس نظم کے شاعر کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ نظم جدید اردو شاعری کی مثال ہے جو زندگی کی ناپائیداری اور انسانی جذبات کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی…


WhenContemporary
Whyیہ نظم انسانی زندگی کی ناپائیداری اور جذبات کی پیچیدگیوں کو بیان کرتی ہے۔
FormNazm

Themes & More

ناپائیداریجذباتی پیچیدگیاں
تکرار: ہر شعر میں 'کسی روز' کی تکرار انسانی زندگی کی مسلسل تبدیلیوں کو ظاہر کرتی ہےتشبیہ: 'زخم بھر جائیں گے' میں زخم کا بھرنا وقت کے ساتھ ساتھ ٹھیک ہونے کی تشبیہ ہے
زخم بھر جائیں گے کسی روز by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning