تھے کتنے ستارے کے سرشام ہی ڈوبے

Urdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
تھے کتنے ستارے کے سرشام ہی ڈوبے
کتنے ستارے شام کے وقت ہی غائب ہو گئے
ہنگام سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
صبح کے وقت کتنے سورج نیچے چلے گئے ہیں
 

Explanation

یہ شعر ایک عمومی مشاہدہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح شام کے وقت ستارے غائب ہو جاتے ہیں اور صبح کے وقت سورج غروب ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ ایک استعاراتی انداز میں زندگی کی ناپائیداری اور وقت کی تیزی سے گزرنے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر یہاں وقت کی تبدیلی اور زندگی کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ستاروں کا ڈوبنا اور سورج کا ڈھلنا زندگی کی مختصر مدت اور اس کی ناپائیداری کی علامت ہے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں ہر چیز عارضی ہے اور ہمیں وقت کی قدر کرنی چاہیے۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
سرشامشام کے وقتجب شام شروع ہوتی ہےsar-shaam
ہنگاموقتکسی خاص وقتhangaam
خورشیدسورجسورجkhursheed
ڈھلےغروب ہوئےنیچے چلے گئےdhale

Poet & Context

Poet
EraN/A

یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں کئی نامور شعراء گزرے ہیں جنہوں نے اردو زبان کو فروغ…


WhenN/A
Whyیہ شعر کسی خاص تاریخی یا ذاتی پس منظر کے بغیر ہے۔
FormGhazal

Themes & More

ناپائیداریوقت کی تبدیلی
استعارہ: ستاروں اور سورج کا ڈوبنا زندگی کی ناپائیداری کی علامت ہےتشبیہ: وقت کی تیزی سے گزرنے کو قدرتی مظاہر سے تشبیہ دی گئی ہے
تھے کتنے ستارے کے سرشام ہی ڈوبے by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning