ستاروں کے اگے جہاں اور بھی ہے

علامہ اقبالUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
ستاروں کے اگے جہاں اور بھی ہے
ستاروں کے آگے بھی دنیا ہے
ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہے
ابھی محبت کی آزمائشیں باقی ہیں
 

Explanation

یہ شعر علامہ اقبال کی نظم 'بال جبریل' کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے انسان کی ترقی کی لا محدود صلاحیتوں کی طرف اشارہ کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں کہا گیا ہے کہ ستاروں سے آگے بھی دنیا موجود ہے، یعنی انسان کی ترقی کی کوئی حد نہیں ہے اور وہ ہمیشہ نئی بلندیوں کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ دوسرے مصرعے میں عشق کی آزمائشوں کا ذکر ہے، جو یہ بتاتا ہے کہ عشق کی راہ میں مشکلات اور امتحان ہمیشہ رہتے ہیں، اور ان کا سامنا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ شعر انسان کو تحریک دیتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو پہچانے اور عشق کی راہ میں آنے والی مشکلات کا سامنا کرے۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ستاروںفلک کے اجسامآسمان پر چمکنے والے اجسامsitaaron
جہاںدنیادنیاjahaan
عشقمحبتمحبتishq
امتحاںآزمائشکسی چیز کی جانچ یا پرکھimtihaan

Poet & Context

Era20th Century

علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور سیاستدان تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کا شمار اردو اور فارسی کے عظیم شاعروں میں ہوتا…

View on Wikipedia
When20th Century
Whyیہ شعر علامہ اقبال کی نظم 'بال جبریل' کا حصہ ہے، جس میں انہوں نے مسلمانوں کو نئی بلندیوں کی طرف بڑھنے کی ترغیب دی ہے۔ یہ شعر انسان کی ترقی کی لا محدود صلاحیتوں اور عشق کی آزمائشوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
Formنظم

Themes & More

ترقیعشق
استعارہ: ستاروں کے آگے جہاں کا استعارہ ترقی کی لا محدود صلاحیتوں کے لئے استعمال ہوا ہے۔تشبیہ: عشق کے امتحاں کو زندگی کی مشکلات کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔
ستاروں کے اگے جہاں اور بھی ہے by علامہ اقبال — Poem, Translation & Meaning