پلکو سے گر نا جاے یہ موتی سنبھال لو

Urdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
پلکو سے گر نا جاے یہ موتی سنبھال لو
پلکوں سے گرنے نہ دو یہ قیمتی آنسو، انہیں محفوظ کر لو
دنیا کے پاس دیکھنی والی نظر کہاں
دنیا میں کسی کے پاس دیکھنے کی خاص نظر نہیں ہوتی
 

Explanation

یہ شعر انسانی جذبات کی نزاکت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آنسو جو پلکوں سے گرنے والے ہیں، انہیں سنبھال لو کیونکہ یہ موتیوں کی مانند قیمتی ہیں۔ دنیا میں ہر کسی کے پاس ان کی قدر کرنے والی نظر نہیں ہوتی۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو دوسروں کے جذبات کو نہیں سمجھتے اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ شاعر نے آنسوؤں کو موتیوں سے تشبیہ دی ہے جو ان کی قدر و قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
پلکوآنکھوں کی جھپکیاںآنکھوں کے اوپر کے بالpalko
موتیقیمتی پتھرسمندر سے نکلنے والا سفید قیمتی پتھرmoti
سنبھالمحفوظ کرنادیکھ بھال کرناsambhaal
نظردیکھنے کی طاقتآنکھوں سے دیکھنے کی طاقتnazar

Poet & Context

Poet
EraContemporary

اس شعر کے شاعر کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ ایک جدید دور کا شعر ہے جو اردو شاعری کی روایت کا حصہ…


WhenContemporary
Whyیہ شعر انسانی جذبات اور احساسات کی نزاکت کو بیان کرتا ہے، جہاں آنسوؤں کو موتیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔
FormGhazal

Themes & More

Human EmotionsValue of Tears
Metaphor: آنسوؤں کو موتیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔Imagery: پلکوں سے موتی گرنے کی تصویر کشی کی گئی ہے۔
پلکو سے گر نا جاے یہ موتی سنبھال لو by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning