تہی زندگی اے نہیں یہ فضائیں

علامہ اقبالUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
تہی زندگی اے نہیں یہ فضائیں
یہ زندگی خالی نہیں ہے، یہ ہوائیں
یہاں سیکڑوں کارواں اور بھی ہے
یہاں بہت سے قافلے اور بھی ہیں
 

Explanation

یہ شعر علامہ اقبال کی مشہور غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے۔ اس شعر میں شاعر یہ بتا رہے ہیں کہ زندگی میں جو کچھ ہمیں نظر آتا ہے، وہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس دنیا میں اور بھی بہت کچھ ہے جو ہمیں دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ شاعر کا پیغام یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو محدود نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ ہمیشہ نئی راہوں کی تلاش میں رہنا چاہیے۔ یہ شعر ہمیں ترغیب دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں تاکہ ہم زندگی میں کامیاب ہو سکیں۔

Word Dictionary3

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
تہیخالیخالی، جس میں کچھ نہ ہوtahi
فضائیںہوائیںہوا، آسمانfazaaein
کارواںقافلےقافلہ، مسافروں کا گروہkaarwaan

Poet & Context

Era20th century

علامہ اقبال ایک مشہور شاعر اور فلسفی تھے جنہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے لئے الگ وطن کا خواب دیکھا۔ ان کی شاعری میں فلسفہ خودی اور مسلمانوں کی بیداری کا پیغام ملتا…

View on Wikipedia
WhenEarly 20th century
WhyThis poem is part of Allama Iqbal's ghazal 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں', which reflects on the limitless possibilities and the need for continuous striving beyond the apparent limits.
FormGhazal

Themes & More

ExplorationLimitless Potential
Metaphor: 'فضائیں' as opportunities or possibilities.Imagery: The use of 'کارواں' to depict journeys or endeavors.
تہی زندگی اے نہیں یہ فضائیں by علامہ اقبال — Poem, Translation & Meaning