زندگی ہے یا کوئ طوفان

Khwaja Meer DardUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
زندگی ہے یا کوئ طوفان
یہ زندگی ہے یا کوئی بڑا مسئلہ
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
ہم تو اس زندگی کے دباؤ میں ختم ہو چکے ہیں
 

Explanation

یہ شعر خواجہ میر درد کا ہے جو زندگی کی مشکلات اور مصائب کو بیان کرتا ہے۔ شاعر زندگی کو ایک طوفان کی مانند دیکھتا ہے جو انسان کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اس زندگی کی مشکلات اور پریشانیوں کی وجہ سے مر چکے ہیں۔ یہ شعر زندگی کی ناپائیداری اور اس کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے۔ شاعر نے زندگی کی مشکلات کو طوفان سے تشبیہ دی ہے، جو انسان کو اپنی جدوجہد میں مبتلا رکھتا ہے۔ یہ شعر انسان کی زندگی کی ناپائیداری اور اس کے چیلنجز کی عکاسی کرتا ہے، جو ہر انسان کو درپیش ہوتے ہیں۔

Word Dictionary3

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
طوفانآندھی، بگولہبہت تیز ہوا یا بگولہtoofaan
جینےزندگی گزارنےزندگی گزارنے کا عملjeene
مرفوت ہونازندگی کا ختم ہوناmar

Poet & Context

Era18th century

خواجہ میر درد اردو کے مشہور شاعر تھے جو 18ویں صدی میں پیدا ہوئے۔ ان کی شاعری میں تصوف اور روحانیت کا گہرا اثر ہے۔ وہ اردو کے کلاسیکی شعرا میں شمار ہوتے…

View on Wikipedia
When18th century
Whyیہ شعر زندگی کی مشکلات اور مصائب کی عکاسی کرتا ہے، جو انسان کو جینے کی جدوجہد میں مبتلا رکھتے ہیں۔
FormGhazal

Themes & More

زندگی کی ناپائیداریمشکلات اور مصائب
تشبیہ: زندگی کو طوفان سے تشبیہ دی گئی ہےاستعارہ: زندگی کی مشکلات کو طوفان کے طور پر پیش کیا گیا ہے
زندگی ہے یا کوئ طوفان by Khwaja Meer Dard — Poem, Translation & Meaning