تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہیہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی

احمد فرازUrdu1 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہیہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی
تمہیں اپنے ظلم پر افسوس ہے جیسے ہمیشہ ہوتا ہے ہمارے کندھوں پر سر کا بوجھ تھا جیسے ہمیشہ ہوتا ہے
 

Explanation

یہ اشعار احمد فراز کی ایک غزل سے ہیں جس میں شاعر اپنے محبوب سے مخاطب ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ محبوب کو اپنے ظلم کا افسوس ہے، لیکن یہ افسوس بھی ویسا ہی ہے جیسے ہمیشہ ہوتا آیا ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر اپنے کندھوں پر سر کا بوجھ محسوس کرتا ہے، جو کہ ایک استعارہ ہے ان کی زندگی کے مسائل اور مشکلات کے لئے۔ یہ اشعار محبت میں پیدا ہونے والے غم اور درد کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں محبوب کے رویے سے شاعر کو تکلیف پہنچتی ہے۔ احمد فراز کی شاعری میں یہ خاصیت ہے کہ وہ محبت کے جذبات کو بہت خوبصورتی سے بیان کرتے ہیں، اور ان کے الفاظ دل کو چھو لیتے ہیں۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ستمظلمکسی پر زیادتی کرناsitam
ملالافسوسغم یا پچھتاواmalaal
دوشکندھاکندھاdosh
وبالبوجھمشکل یا مصیبتwabaal

Poet & Context

Era20th century

احمد فراز پاکستان کے مشہور شاعر تھے جنہوں نے اردو شاعری میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی شاعری میں محبت، غم اور سماجی مسائل کی عکاسی ہوتی…

View on Wikipedia
When20th century
Whyیہ غزل احمد فراز کی محبت اور غم کی شاعری کی نمائندگی کرتی ہے، جو ان کی زندگی کے تجربات اور جذبات کی عکاسی کرتی ہے۔
Formغزل

Themes & More

محبتغمظلم
استعارہ: 'دوش پہ سر تھا وبال' میں کندھے پر بوجھ کو زندگی کی مشکلات کا استعارہ بنایا گیا ہے۔تکرار: 'ویسے ہی' کا استعمال دونوں مصرعوں میں کیا گیا ہے تاکہ ایک تسلسل اور تاثر پیدا ہو۔
تمہیں ہے اپنے ستم کا ملال ویسے ہیہمارے دوش پہ سر تھا وبال ویسے ہی by احمد فراز — Poem, Translation & Meaning