سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر گذشت

Urdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر گذشتہ چھے ماہ کا کرایہ ایک ساتھ ادانہ کیا تو وہ اس کا سامان نکال کر باہر پھینک دے گا۔ ماسٹر جی کی خوف کے مارے بندھ گئی۔ کیوں کہ ان کے پاس ایک سواسی روپے یک مشت موجود نہیں تھے۔ صرف چالیس روپے تھے ، جن کے ساتھ دس کا ایک نوٹ اور پر ذکر انھوں نے پچاس بنا لیے تھے۔ پہلے تو مالک مکان
سردیوں کی ایک شام، مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر تین دن میں چھے ماہ کا کرایہ ادا نہ کیا تو وہ سامان باہر پھینک دے گا۔
بچیں، تیں، چالیس، پچاس لے کر آگے کی تاریخ دے دیا کرتا تھا۔ لیکن اس مرتبہ وہ ترنگ ہو گیا اور اس نے دھاگے میں پروئے ہوئے پچاس روپے اصیل مرغے کے آگے پھینک کر کہا جا اوئے ! میں نہیں لیتا۔ مجھے پورے ایک سواسی کر کے دے۔“
ماسٹر جی خوفزدہ ہو گئے کیونکہ ان کے پاس ایک سواسی روپے نہیں تھے۔ ان کے پاس صرف چالیس روپے تھے، جنہیں دس کا نوٹ شامل کر کے پچاس بنایا تھا۔ پہلے مالک مکان چالیس یا پچاس لے کر آگے کی تاریخ دے دیتا تھا۔ لیکن اس بار وہ ضد پر آ گیا اور پچاس روپے مرغے کے آگے پھینک کر کہا کہ پورے ایک سواسی دے۔
 

Explanation

یہ نظم ایک افسانوی کہانی کی شکل میں ہے جو کہ ایک کرایہ دار کی مشکل صورتحال کو بیان کرتی ہے۔ ماسٹر الیاس کو مالک مکان کی طرف سے کرایہ نہ دینے پر سختی سے ڈانٹا جاتا ہے اور انہیں تین دن کی مہلت دی جاتی ہے کہ وہ چھے ماہ کا کرایہ ادا کریں ورنہ ان کا سامان باہر پھینک دیا جائے گا۔ ماسٹر الیاس کے پاس پورے پیسے نہیں ہوتے اور وہ صرف چالیس روپے جمع کر پاتے ہیں۔ پہلے مالک مکان ان سے کم پیسے لے کر آگے کی تاریخ دے دیتا تھا لیکن اس بار وہ ضد پر آ جاتا ہے اور پچاس روپے واپس کر دیتا ہے۔ یہ کہانی معاشرتی مسائل اور کرایہ داروں کی مشکلات کو اجاگر کرتی ہے۔

Word Dictionary6

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ڈانٹاسختی سے کہاغصے میں بات کرناdaanta
دھمکیخوف دلاناکسی کو ڈرا کر کچھ کرنے پر مجبور کرناdhamki
یک مشتایک ساتھایک ہی بار میںyak musht
ترنگضدضد پر آناtarang
اصیلاصلخالصaseel
مرغےمرغاایک پرندہmurghay

Poet & Context

Poet
EraModern Urdu Literature

یہ نظم کسی معروف شاعر کی نہیں ہے بلکہ یہ ایک افسانوی انداز میں لکھی گئی ہے۔ اردو ادب میں افسانوی طرز تحریر کا استعمال عام ہے جو کہ کہانیوں یا واقعات کو بیان کرنے کے لئے استعمال ہوتا…


WhenUnknown
Whyیہ نظم ایک افسانوی کہانی کی شکل میں ہے جو کہ ایک کرایہ دار کی مشکل صورتحال کو بیان کرتی ہے۔ یہ اردو ادب کے افسانوی طرز کی ایک مثال ہے جو کہ معاشرتی مسائل کو اجاگر کرتی ہے۔
FormAfsana (افسانہ)

Themes & More

معاشرتی مسائلکرایہ دار کی مشکلات
افسانوی انداز: کہانی کی شکل میں معاشرتی مسئلہ بیان کرناتشبیہ: مالک مکان کا رویہ مرغے کے سامنے پیسے پھینکنے سے تشبیہ دینا
سردیوں کی ایک شام مالک مکان نے ماسٹر الیاس کو بڑے سخت الفاظ میں ڈانٹا اور دھمکی دی کہ اگر اس نے تین دن کے اندر اندر گذشت by Unknown poet — Poem, Translation & Meaning