Loading
اس ہولناک طوفاں کی زد میں آۓs hwlnk twfn ky zd myn ae
اس ہولناک طوفاں کی زد میں آۓ احباب جو بھی تھے کہیں مڑ مڑا گۓ ہر اک ک دکھ کا مداوا کیا مگر ہماری باری آ ئی تو دامن چھڑا گۓ نہ اب وہ شوخ میں مستیاں ، نہ وہ قلب حزیں کی سختیاں ہم سے جو پیٹھ پھیر گۓ ، نہ جانے وہ کدھر گۓ اب جو جہان سنگ وخشت کی تلخیوں پہ دم بخود ہوۓ ایان نہ کہا کسی سے کچھ ، قلم اٹھا کے بس کاغذ کے ہو گۓ
اس خوفناک طوفان کی زد میں آ گئے دوست جو بھی تھے کہیں چلے گئے ہر دکھ کا علاج کیا مگر ہماری باری آئی تو چھوڑ گئے نہ اب وہ شوخی کی مستیاں ہیں، نہ دل کی سختیاں جو ہم سے منہ موڑ گئے، نہ جانے کہاں گئے اب جو دنیا کی سختیوں پر حیران ہوئے کسی سے کچھ نہ کہا، قلم اٹھا کر بس لکھنے لگے