na ganwao naawak e neem kash dil e raiza raiza ganwa dia

Faiz Ahmed FaizUrdu2 lines1 public analyses

Original Poetry

na ganwao naawak e neem kash dil e raiza raiza ganwa dia jo bachay hain sang samait lo tan e zaar zaar bacha lia

Translation

آدھے کھینچے ہوئے تیر کو ضائع نہ کرو، ٹوٹے دل کو ضائع کر دیا جو پتھر باقی ہیں انہیں اکٹھا کر لو، زخمی جسم کو بچا لیا

Explanation

یہ غزل فیض احمد فیض کی ایک مشہور تخلیق ہے جس میں انہوں نے زندگی کی مشکلات اور چیلنجز کو بیان کیا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ نیم کھینچے ہوئے تیر کو ضائع نہ کرو، یعنی جو چیزیں ابھی مکمل نہیں ہوئیں، انہیں ضائع نہ کرو۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ جو پتھر بچے ہیں انہیں جمع کر لو، یعنی جو کچھ بھی بچا ہے، اسے سنبھال لو۔ یہ غزل انسانی زندگی کی مشکلات اور ان کے حل کی طرف اشارہ کرتی ہے، جہاں شاعر نے اپنے دل کی ٹوٹ پھوٹ اور جسم کی زخمی حالت کو بیان کیا ہے۔

Word Dictionary

WordEasy MeaningTranslationPron.
naawakتیرتیر، جو نشانہ لگانے کے لئے استعمال ہوتا ہےnaavaak
neem kashنیم کھینچا ہواآدھا کھینچا ہوا، مکمل نہیںneem kash
raiza raizaٹوٹا ہواٹکڑے ٹکڑے، بکھرا ہواraiza raiza
sangپتھرسخت چیزsang
samaitجمع کرواکٹھا کرو، سمیٹوsamait
tanجسمبدنtan
zaar zaarزخمیبہت زیادہ زخمی، درد میںzaar zaar

Poet & Context

PoetFaiz Ahmed Faiz
Era20th century

فیض احمد فیض (13 فروری 1911 – 20 نومبر 1984) ایک پاکستانی شاعر اور اردو و پنجابی ادب کے مصنف تھے۔ فیض اپنے وقت کے سب سے مشہور، مقبول اور بااثر اردو لکھاریوں میں سے ایک تھے، اور ان کے خیالات آج بھی پاکستان، بھارت اور دیگر ممالک میں وسیع پیمانے پر اثر رکھتے ہیں۔

View on Wikipedia
When20th century
Whyیہ نظم فیض احمد فیض کی سیاسی اور سماجی نظریات کی عکاسی کرتی ہے، خاص طور پر ان کے مارکسی نظریات اور معاشرتی انصاف کے لئے جدوجہد کی۔
FormGhazal

Themes & More

struggleresilience
metaphor: نیم کھینچے ہوئے تیر کو ضائع مت کروimagery: ٹوٹے دل کو ضائع کر دیا
na ganwao naawak e neem kash dil e raiza raiza ganwa dia — Poem | Poetry Explainer