جس سر کو غرور آج ہے یا تاج واری کا

میر تقی میرUrdu2 lines1 public analyses

Original Poetry

جس سر کو غرور آج ہے یا تاج واری کا کل اس پہ یہیں شور ہے پھر نوحا گری کا

Translation

وہ سر جو آج بادشاہی پر فخر کر رہا ہے کل اسی پر یہاں غم کا شور ہوگا

Explanation

یہ شعر میر تقی میر کا ہے جس میں انسانی غرور اور دنیا کی بے ثباتی کو بیان کیا گیا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جو شخص آج اپنے سر پر تاج ہونے کی وجہ سے فخر کر رہا ہے، اسے یہ نہیں معلوم کہ کل اس کی موت پر لوگ نوحہ کریں گے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی چیزیں عارضی ہیں اور انسان کو اپنی حیثیت پر غرور نہیں کرنا چاہیے کیونکہ کل کو سب کچھ ختم ہو سکتا ہے۔ میر تقی میر کی شاعری میں اکثر دنیا کی بے ثباتی اور انسانی جذبات کی گہرائی کو بیان کیا جاتا ہے۔

Word Dictionary

WordEasy MeaningTranslationPron.
غرورتکبرخود پسندیghuroor
تاج واریبادشاہیبادشاہی کی حالتtaaj waari
نوحا گریماتمغمnoha gari

Poet & Context

Poetمیر تقی میر
Era18th century

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق 18ویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور دنیا کی بے ثباتی کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔ میر کو اردو غزل کا بادشاہ بھی کہا جاتا ہے۔

View on Wikipedia
When18th century
Whyیہ شعر انسانی غرور اور دنیا کی بے ثباتی کے موضوع پر ہے۔ میر تقی میر نے اس شعر میں اس بات کو اجاگر کیا ہے کہ جو انسان آج اپنے تاج و تخت پر غرور کر رہا ہے، کل اس کی موت پر نوحہ گری ہوگی۔ یہ شعر دنیا کی ناپائیداری اور انسانی غرور کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔
FormGhazal

Themes & More

غروردنیا کی بے ثباتی
metaphor: تاج واری کا غرور دنیاوی حیثیت کی عارضیت کو ظاہر کرتا ہےimagery: نوحا گری کا شور موت اور غم کی تصویر کشی کرتا ہے
جس سر کو غرور آج ہے یا تاج واری کا — Poem | Poetry Explainer