ham aap hī ko apnā maqsūd jānte haiñ

Mir Taqi MirUrdu2 lines1 public analyses

Original Poetry

ham aap hī ko apnā maqsūd jānte haiñ apne sivā.e kis ko maujūd jānte haiñ

Translation

ہم صرف آپ کو ہی اپنا مقصد سمجھتے ہیں اپنے علاوہ کسی اور کو موجود نہیں سمجھتے

Explanation

یہ شعر میر تقی میر کی غزل سے ہے جس میں شاعر اپنی خود شناسی اور خودی کی بات کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ خود کو ہی اپنا مقصد سمجھتا ہے، یعنی اس کی زندگی کا مقصد خود کی تلاش اور خود کی پہچان ہے۔ دوسرے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ وہ اپنے سوا کسی اور کو موجود نہیں سمجھتا، یعنی اس کی نظر میں دنیا کی حقیقت اس کی اپنی ذات میں ہی ہے۔ یہ شعر انسان کی داخلی کیفیت اور خود شناسی کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔

Word Dictionary

WordEasy MeaningTranslationPron.
maqsūdمقصدحاصل کرنے کی چیزmaqsood
maujūdموجودحاضرmaujood
sivā.eسواعلاوہsivaa.e

Poet & Context

PoetMir Taqi Mir
Era18th century

میر تقی میر اردو کے مشہور شاعر ہیں جن کا تعلق اٹھارہویں صدی سے ہے۔ ان کی شاعری میں انسانی جذبات اور فلسفہ کی گہرائی کو بیان کیا گیا ہے۔

View on Wikipedia
When18th century
Whyیہ شعر میر تقی میر کی غزل سے ہے، جو ان کی فلسفیانہ سوچ اور انسانی وجود کی حقیقت کو بیان کرتا ہے۔ میر کی شاعری میں اکثر انسان کی داخلی کیفیت اور خود شناسی کا ذکر ملتا ہے۔
FormGhazal

Themes & More

خود شناسیفلسفہ
metaphor: خود کو مقصد جانناrhetorical question: اپنے سوا کس کو موجود جانتے ہیں
ham aap hī ko apnā maqsūd jānte haiñ — Poem | Poetry Explainer