کون کہتا ہے کہ موت ائی تو مر جاو گا

احمد ندیم قاسمیUrdu2 lines1 public analyses

Original Poetry

کون کہتا ہے کہ موت ائی تو مر جاو گا میں تو دریا ہو سمندر میں اتر جاو گا

Translation

کون کہتا ہے کہ موت آئے گی تو میں ختم ہو جاؤں گا؟ میں تو دریا ہوں، سمندر میں جا کر اور بڑا ہو جاؤں گا۔

Explanation

یہ شعر احمد ندیم قاسمی کی ایک مشہور غزل کا حصہ ہے جس میں شاعر موت کے روایتی تصور کو رد کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ موت کو ایک اختتام کے بجائے ایک نئے سفر کے آغاز کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ وہ خود کو دریا سے تشبیہ دیتا ہے جو سمندر میں جا کر ختم نہیں ہوتا بلکہ مزید وسیع اور طاقتور ہو جاتا ہے۔ اس طرح شاعر کا ماننا ہے کہ موت کے بعد زندگی کا ایک نیا اور بڑا مرحلہ شروع ہوتا ہے۔ یہ غزل زندگی کے بارے میں مثبت سوچ اور امید کی عکاسی کرتی ہے اور ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ موت کے بعد بھی زندگی کا تسلسل جاری رہتا ہے۔

Word Dictionary

WordEasy MeaningTranslationPron.
موتوفاتمرناmaut
دریانہربہتا پانیdaryaa
سمندربحربڑا پانیsamundar
اترداخل ہونااندر جاناutar

Poet & Context

Poetاحمد ندیم قاسمی
Era20th century

احمد ندیم قاسمی پاکستان کے معروف شاعر، افسانہ نگار اور صحافی تھے۔ ان کی پیدائش 20 نومبر 1916 کو ضلع خوشاب میں ہوئی۔ قاسمی نے اپنی شاعری میں انسانی جذبات، سماجی مسائل اور فلسفیانہ موضوعات کو اجاگر کیا۔

View on Wikipedia
When20th century
Whyیہ غزل موت کے روایتی تصور کو چیلنج کرتی ہے اور شاعر کی زندگی کے بارے میں مثبت سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ شاعر موت کو ایک نئے سفر کا آغاز سمجھتا ہے، جو زندگی کے ایک نئے اور وسیع تر مرحلے میں داخلہ ہے۔
Formغزل

Themes & More

زندگی اور موتنئی شروعاتمثبت سوچ
تشبیہ: شاعر نے خود کو دریا سے تشبیہ دی ہےاستعارہ: موت کو ایک نئے سفر کے آغاز کے طور پر پیش کیا گیا ہے
کون کہتا ہے کہ موت ائی تو مر جاو گا — Poem | Poetry Explainer