Loading
عنوانِ نظم : چراغانِ امامتUnwān-e nazm: Charāghān-e imāmat
عنوانِ نظم : چراغانِ امامت
حق کی تلوار ہے حیدرؑ،عدل کا روشن چراغ، جس نے پہچانا علیؑ کو، اُسی نے فراغ پایا ہے،
حسنؑ و حسینؑ ہیں شمعِ ہدایت، راہِ نجات، ان کے نقشِ قدم پر ہے عبادت کی حیات،
زین العابدینؑ کی آنکھوں میں سجدوں کا نور، بندۂ رب وہی جو رکھے صبر و رضا کا شعور،
باقرؑ و صادقؑ علمِ الٰہی کے امین ہیں، جن کے الفاظ سے روشن ہوا دینِ متین،
کاظمؑ وہ صبر کا دریا، خامشی میں کمال، جس کی زنجیر بھی بولی، کہ یہ حق کا جمال ہے،
رضاؑ وہ نورِ ہدایت، شاہِ خراسان ہے، جس کے در سے ملتی ہے امان،
تقیؑ و نقیؑ آئینۂ صدق و وفا ہیں، ان کے کردار میں پوشیدہ ہے دینِ خدا،
عسکریؑ ہدایت کے امین و رہبر، جن کے سجدوں سے روشن ہے شبِ ظلمت کا سفر،
مہدیؑ وہ وعدۂ حق ہیں جو، عدل کے ساتھ جہاں کو سنوار جائیں گے،
میں فقط ایک فقیرِ درِ آلِ عبا، میرے ایمان کی دولت ہے محبتِ مصطفیٰؐ،
میں قاسمؔ ہوں، شاید میرا مطلب یہی، دشمنِ حق سے براءت بھی عبادت ہے مری، اور ولایت میں ہی پوشیدہ ہے جنت میری
نظم نگار سید قاسم رضا بخاری (ثانی)
عنوانِ نظم : چراغانِ امامت
حق کی تلوار ہے حیدرؑ،عدل کا روشن چراغ، جس نے پہچانا علیؑ کو، اُسی نے فراغ پایا ہے،
حسنؑ و حسینؑ ہیں شمعِ ہدایت، راہِ نجات، ان کے نقشِ قدم پر ہے عبادت کی حیات،
زین العابدینؑ کی آنکھوں میں سجدوں کا نور، بندۂ رب وہی جو رکھے صبر و رضا کا شعور،
باقرؑ و صادقؑ علمِ الٰہی کے امین ہیں، جن کے الفاظ سے روشن ہوا دینِ متین،
کاظمؑ وہ صبر کا دریا، خامشی میں کمال، جس کی زنجیر بھی بولی، کہ یہ حق کا جمال ہے،
رضاؑ وہ نورِ ہدایت، شاہِ خراسان ہے، جس کے در سے ملتی ہے امان،
تقیؑ و نقیؑ آئینۂ صدق و وفا ہیں، ان کے کردار میں پوشیدہ ہے دینِ خدا،
عسکریؑ ہدایت کے امین و رہبر، جن کے سجدوں سے روشن ہے شبِ ظلمت کا سفر،
مہدیؑ وہ وعدۂ حق ہیں جو، عدل کے ساتھ جہاں کو سنوار جائیں گے،
میں فقط ایک فقیرِ درِ آلِ عبا، میرے ایمان کی دولت ہے محبتِ مصطفیٰؐ،
میں قاسمؔ ہوں، شاید میرا مطلب یہی، دشمنِ حق سے براءت بھی عبادت ہے مری، اور ولایت میں ہی پوشیدہ ہے جنت میری
نظم نگار سید قاسم رضا بخاری (ثانی)