Loading
غزلghzl
وہ اٹھے ہیں لے کے خم و سبو ارے او شکیلؔ کہاں ہے تو
ترا جام لینے کو بزم میں کوئی اور ہاتھ بڑھا نہ دے
نہ گرداب میں غرق ہو جا ہم ہمیں یہ ترے عشق کی بات ہے
وہ بادل ہے جو دیکھ ہو گیا وہ جھیل ہے جو کھو گئی ہے
تمنا کا زکاوت ، گزر گئی خوشی کی عجب رسم ہوئی ہے
جو گزرتے ہیں چالوں میں جی وہ لوگ ہیں وفادار نہیں
وہ آئے ہیں شراب اور پیالہ لے کر اے شکیل، تم کہاں ہو؟
تمہارا جام لینے کے لیے محفل میں کوئی اور ہاتھ نہ بڑھا دے
کہیں ہم گرداب میں نہ ڈوب جائیں یہ تمہارے عشق کی بات ہے
وہ بادل ہے جو نظر سے اوجھل ہو گیا وہ جھیل ہے جو کھو گئی ہے
خواہش کا تیز احساس گزر گیا خوشی کی عجیب رسم ہوئی ہے
جو چالوں میں زندگی گزارتے ہیں وہ لوگ وفادار نہیں ہوتے