اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم

علامہ اقبالUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم
اگر ایک آشیانہ کھو گیا تو کوئی پریشانی کی بات نہیں
مقامات آہ و فغاں اور بھی ہے
رونے اور فریاد کرنے کے لیے اور جگہیں بھی ہیں
 

Explanation

یہ شعر علامہ اقبال کی غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے۔ اس میں شاعر کہتا ہے کہ اگر ایک آشیانہ یا ٹھکانہ کھو بھی جائے تو کوئی غم نہیں کیونکہ دنیا میں اور بھی مواقع اور مقامات ہیں جہاں انسان اپنی کوششیں جاری رکھ سکتا ہے۔ یہ شعر انسان کو مایوسی سے بچنے اور امید کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتا ہے۔ اقبال کی شاعری میں خودی اور بلند حوصلگی کا پیغام ملتا ہے، جو انسان کو اپنی صلاحیتوں پر یقین رکھنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اس شعر میں 'آہ و فغاں' کے مقامات کا ذکر ہے، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ زندگی میں مشکلات کے باوجود انسان کو ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
نشیمنآشیانہپرندوں کا گھر یا انسان کا ٹھکانہnasheman
غمفکرپریشانی یا دکھgham
مقاماتجگہیںمختلف جگہیںmaqaamaat
آہ و فغاںرونا دھوناغم و اندوہ کا اظہارaah o fighaan

Poet & Context

Era20th Century

علامہ اقبال بیسویں صدی کے معروف شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری نے مسلمانوں کو بیداری اور خودی کا پیغام دیا۔ اقبال کی شاعری میں اسلامی فلسفہ اور خودی کا تصور نمایاں…

View on Wikipedia
When20th Century
Whyیہ شعر علامہ اقبال کی غزل 'ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں' کا حصہ ہے، جو مسلمانوں کو امید اور بلند حوصلگی کا پیغام دیتی ہے۔
Formغزل

Themes & More

امیدحوصلہخودی
تشبیہ: 'نشیمن' کو زندگی کے مواقع سے تشبیہ دی گئی ہےاستعارہ: 'آہ و فغاں' کو مشکلات کے اظہار کے لیے استعمال کیا گیا ہے
اگر کھو گیا اک نشیمن تو کیا غم by علامہ اقبال — Poem, Translation & Meaning