قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر

علامہ اقبالUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر
خوشبو اور رنگین دنیا پر مطمئن نہ ہو
چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے
باغات اور بھی ہیں، آشیانے اور بھی ہیں
 

Explanation

یہ شعر علامہ اقبال کی شاعری کا ایک حصہ ہے جس میں وہ انسان کو قناعت پسندی سے بچنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ اقبال کا پیغام ہے کہ انسان کو موجودہ حالت پر مطمئن نہیں ہونا چاہیے بلکہ مزید ترقی اور کامیابی کی جستجو کرنی چاہیے۔ 'عالم رنگ و بو' سے مراد یہ دنیا ہے جو اپنی رنگینیوں اور خوشبوؤں کے ساتھ دلکش ہے، لیکن اقبال کہتے ہیں کہ اس پر قناعت نہ کرو کیونکہ زندگی میں اور بھی مواقع اور امکانات موجود ہیں۔ 'چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے' کا مطلب ہے کہ دنیا میں اور بھی باغات اور آشیانے ہیں، یعنی اور بھی مواقع ہیں جنہیں تلاش کرنا چاہیے۔ یہ شعر انسان کو اپنی صلاحیتوں کو پہچاننے اور ان کا بھرپور استعمال کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

Word Dictionary5

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
قناعتاطمینانموجودہ حالت پر راضی ہوناqana'at
عالمدنیادنیا کی حالتaalam
رنگ و بوخوشبو اور رنگخوشبو اور رنگ کی دنیاrang o boo
چمنباغباغchaman
آشیاںگھونسلہگھونسلہaashiyaan

Poet & Context

Era20th Century

علامہ اقبال برصغیر کے مشہور شاعر، فلسفی اور مفکر تھے۔ ان کی شاعری میں خودی، عشق، اور مسلمانوں کی بیداری کے موضوعات شامل…

View on Wikipedia
When20th Century
Whyیہ شعر علامہ اقبال کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں وہ انسان کو قناعت سے بچنے اور مزید آگے بڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔
FormGhazal

Themes & More

قناعتترقیامکانات
metaphor: 'عالم رنگ و بو' کو دنیا کی رنگینیاں اور خوشبوؤں کے طور پر استعمال کیا گیا ہےimagery: 'چمن اور بھی آشیاں اور بھی ہے' میں باغات اور آشیانوں کی تصویر کشی کی گئی ہے
قناعت نہ کر عالم رنگ و بو پر by علامہ اقبال — Poem, Translation & Meaning