اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا

Mirza GhalibUrdu2 lines1 public analyses
Original Poetry
Translation
اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا
بازار سے نیا لے آ اگر یہ ٹوٹ جائے
ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
میرے مٹی کے پیالے کو جم کے ساغر سے بہتر سمجھتا ہوں
 

Explanation

اس شعر میں مرزا غالب نے مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی کو بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر میرا جام ٹوٹ جائے تو میں بازار سے نیا لے آؤں گا، لیکن میرے لئے مٹی کا پیالہ زیادہ قیمتی ہے کیونکہ یہ سادگی اور عاجزی کی علامت ہے۔ غالب یہاں مادی چیزوں کی عارضی حیثیت کو اجاگر کرتے ہیں اور سادگی کی تعریف کرتے ہیں۔ یہ شعر ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں مادی چیزوں کی بجائے سادگی اور عاجزی کو ترجیح دینی چاہئے۔

Word Dictionary4

WordIn UrduPlain (Urdu)Pron.
ساغرپیالہشراب کا گلاسsaaghar
جمجمشیدایرانی بادشاہ جمشیدJamshaid
جامپیالہشراب کا گلاسjaam
سفالمٹیمٹی کا بنا ہواsifaal

Poet & Context

Era19th Century

مرزا غالب اردو اور فارسی کے مشہور شاعر تھے، جنہوں نے 19ویں صدی میں اپنی شاعری کے ذریعے ادب میں انقلاب برپا کیا۔ ان کی شاعری میں فلسفیانہ خیالات اور انسانی تجربات کی گہرائی نظر آتی…

View on Wikipedia
When19th Century
Whyیہ شعر غالب کی فلسفیانہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، جہاں وہ مادی چیزوں کی ناپائیداری اور سادگی کی خوبصورتی پر روشنی ڈالتے ہیں۔
FormGhazal

Themes & More

سادگی کی خوبصورتیمادی چیزوں کی ناپائیداری
تشبیہ: ساغر جم اور جام سفال کا موازنہاستعارہ: مٹی کے پیالے کو سادگی کی علامت کے طور پر پیش کرنا
اور لے اے بازار سے اگر ٹوٹ گیا by Mirza Ghalib — Poem, Translation & Meaning