Original Poem
ركي كرون ى جبتك جوى خول جارى نبين موتىكبهى فكرٍ نحن اكل به كل كارى نبي بوتى وه كولَى اورشى بوتى ي فن كارى ئبي،وتى نى بجإسكتامول خوو كوطنزيا رالت بهانهاسكتى نيس جوانفس وآفاق كى يروى تكريس كيا كرول مجهى رياكارى نبيس موتى بآس اى أس ول كوغيريت ك بيمارى نبير مولى جوول عينيتِ آفاقى آكاه ،وتاب كبهى وحثت توبو سكتى ي بيزارى نبيس،وتى عدُوتى ستكدل سى بهى محبٍ نورعِ انسال كو وُنيايس وه ي لوث عمخوارى نبيس بولىجوسر بم راه بوتوكولى وشوارى شيي مولى فقط باتى طلب ى قطع منزل سخت مشكلبي فكرسى مرض يس راتى بهارى ئئيس موتى يبالون هى جهكار بتاي بار نكته نجس كب ييناجس كانه موخو وكامى وجلبِ مسرت؛ وبال جائدى ك تكرول كايد ستارى نبيس بوتى نظر لو باكلاتى ي جبال كانِ حقائق كا يبال اسمالِ قاسدك خر يدارى نيي بولى أهالى جاوَ جترِ كيقباد وا فرِواراً كد خوش حالسى مالامال، تادارى تبيس موتى سبهى ميرى فراغت كويهى ويكمي جويد كتي بيس
Translation (Urdu)
جب تک کوئی خواب جاری نہیں ہوتا، موت کی کوئی فکر نہیں ہوتی
وہ کہانی اور شاعری کی فنکاری ابھی باقی ہے
مول کی خوشبو کو طنزیہ رات بجھا نہیں سکتی
جو نفس اور آفاق کی یروشلم کو بہا نہیں سکتی
مجھے ریاکاری کی موت کی تکلیف نہیں ہوتی
آس
اے اس ول کو غیرت کی بیماری نہیں ہوتی
جو آفاقی عینیت کو جانتا ہے
کبھی وحدت بیزاری کی موت کو بو سکتی ہے
عداوت سے بھی محبت انسان کے نور کو
دنیا ایسی نہیں بولی جو سر بم راہ بوتوکولى وشوارى شیی مولی
فقط بات کی طلب کی منزل سخت مشکل ہے
فکر کی رات بہار کی موت ایسی ہے
یہ بالون ہی جھکار بتاتی ہے بار نکتہ نجس
کب
یہی ناجس کانہ موخو و کامی و جلبِ مسرت ہے
وبال جائدی کی تکروک کاید ستاری نہیں بولی
نظر لو باکلتی یہ جبال کانِ حقائق کا
یہ بال اسمالِ قاسدک خر یداری نہیں بولی
اہالی جاوَ جترِ کیقباد وا فرِواراً
کہ خوش حالسی مالامال، تاداری تبیس موتی
سبھی میری فراغت کوئی وہی ویکمی جوید کتی بیس
Historical Context
- Literary Form
- Nazm
- When Written
- Unknown
- Background
- The poem seems to explore themes of existential reflection and societal critique, which are common in contemporary Urdu poetry.
Sources: https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ نظم ایک جدید اردو نظم کی مثال ہے جس میں انسانی وجود، معاشرتی مسائل اور زندگی کی حقیقتوں پر غور کیا گیا ہے۔ شاعر نے خوابوں کی اہمیت اور ان کی عدم موجودگی میں موت کی بے فکری کا ذکر کیا ہے۔ نظم میں شاعری اور کہانی کی فنکاری کی بات کی گئی ہے جو ابھی باقی ہے۔ نظم میں طنزیہ رات، نفس اور آفاق کی یروشلم جیسے استعارے استعمال کیے گئے ہیں جو زندگی کی پیچیدگیوں کو بیان کرتے ہیں۔ نظم میں ریاکاری، غیرت، وحدت اور بیزاری جیسے موضوعات کو بھی چھوا گیا ہے۔ شاعر نے انسانی محبت اور دنیا کی حقیقتوں کو بھی بیان کیا ہے۔ نظم میں زندگی کی مشکلات اور ان کے حل کی تلاش کی بات کی گئی ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| ركي | رکنا | ٹھہرنا یا توقف کرنا | rukii |
| كرون | کروں | عمل میں لانا یا انجام دینا | karoon |
| جبتك | جب تک | جب تک کہ | jab tak |
| خول | خواب | خیال یا تصور | khwaab |
| جاري | جاری | چلتا ہوا یا جاری رہنا | jaarii |
| نبين | نہیں | عدم یا انکار | nahiin |
| موتى | موت | زندگی کا خاتمہ | maut |
| فكرٍ | فکر | سوچ یا پریشانی | fikr |
| نحن | ہم | ہم لوگ یا ہم سب | nahn |
| اكل | کھانا | غذا یا کھانا کھانا | khaana |
| كارى | کاری | عمل یا کام | kaarii |
| نبي | نبی | پیغمبر یا رسول | nabii |
| بوتى | بوتی | پودا یا بیج | boti |
| كولَى | کہانی | قصہ یا داستان | kahaani |
| اورشى | اور شاعری | اور نظم یا غزل | aur shaa'iri |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free