Original Poem
جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہے کے جلے ہیں
Translation (Urdu)
چراغوں کا جلنا تو ہمیشہ سے ان کی قسمت میں ہے
یہ دل کے کنول ہیں جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں
About the Poet
Unknown (Modern Urdu Poetry)
یہ شعر کسی معروف شاعر کے نام سے منسوب نہیں ہے، لیکن یہ اردو شاعری کی جدید دور کی ایک مثال ہے۔ اردو شاعری میں دل کی کیفیتوں اور جذبات کو بیان کرنے کا ایک خاص مقام ہے۔
Read more on Wikipedia →Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- Unknown
- Background
- یہ شعر اردو شاعری کی روایت میں دل کی کیفیتوں کو بیان کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ دل کے جذبات اور ان کی نازک حالت کو بیان کرتا ہے۔
Sources: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/تن-زہر-میں-بجھے-ہوئے-،-دل-آگ-میں-جلے-ہوئے.118950/page-3, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ شعر اردو شاعری کی ایک خوبصورت مثال ہے جو دل کی کیفیتوں کو بیان کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ چراغوں کا جلنا ان کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے، یعنی ان کا کام ہی جلنا ہے۔ دوسرے مصرعے میں دل کے کنول کی بات کی گئی ہے، جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں، یعنی دل کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ شعر دل کی نازک حالت اور جذبات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر نے دل کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی ہے جو کبھی کھلتا ہے کبھی مرجھاتا ہے، اور یہ دل کی کیفیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| چرغوں | چراغوں | روشنی دینے والے چراغ | charaghon |
| مقدر | قسمت | وہ جو پہلے سے طے شدہ ہو | muqaddar |
| ازل | ہمیشہ | شروع سے ہمیشہ | azal |
| کنول | پھول | ایک قسم کا پھول جو پانی میں کھلتا ہے | kanwal |
| بجھے | ختم ہونا | ختم ہو جانا | bujhe |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free