🇵🇰

جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے by Unknown — Analysis & Translation

Original Poem

جلنا تو خیر چرغوں کا مقدر ہے ازل سے یہ دل کے کنول ہیں کہ بجھے ہے کے جلے ہیں

Translation (Urdu)

چراغوں کا جلنا تو ہمیشہ سے ان کی قسمت میں ہے یہ دل کے کنول ہیں جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں

About the Poet

Unknown (Modern Urdu Poetry)

یہ شعر کسی معروف شاعر کے نام سے منسوب نہیں ہے، لیکن یہ اردو شاعری کی جدید دور کی ایک مثال ہے۔ اردو شاعری میں دل کی کیفیتوں اور جذبات کو بیان کرنے کا ایک خاص مقام ہے۔

Read more on Wikipedia →

Historical Context

Literary Form
Ghazal
When Written
Unknown
Background
یہ شعر اردو شاعری کی روایت میں دل کی کیفیتوں کو بیان کرنے کے لیے لکھا گیا ہے۔ یہ دل کے جذبات اور ان کی نازک حالت کو بیان کرتا ہے۔

Sources: https://www.urduweb.org/mehfil/threads/تن-زہر-میں-بجھے-ہوئے-،-دل-آگ-میں-جلے-ہوئے.118950/page-3, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry

Detailed Explanation

یہ شعر اردو شاعری کی ایک خوبصورت مثال ہے جو دل کی کیفیتوں کو بیان کرتا ہے۔ پہلے مصرعے میں شاعر کہتا ہے کہ چراغوں کا جلنا ان کی تقدیر میں لکھا ہوا ہے، یعنی ان کا کام ہی جلنا ہے۔ دوسرے مصرعے میں دل کے کنول کی بات کی گئی ہے، جو کبھی بجھتے ہیں کبھی جلتے ہیں، یعنی دل کی کیفیتیں بدلتی رہتی ہیں۔ یہ شعر دل کی نازک حالت اور جذبات کی گہرائی کو بیان کرتا ہے۔ شاعر نے دل کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی ہے جو کبھی کھلتا ہے کبھی مرجھاتا ہے، اور یہ دل کی کیفیتوں کی عکاسی کرتا ہے۔

Themes

  • Fate
  • Emotions
  • Heart's Condition

Literary Devices

  • Metaphor: دل کے کنول کو کنول کے پھول سے تشبیہ دی گئی ہے
  • Imagery: چراغوں کا جلنا اور بجھنا دل کی کیفیتوں کو ظاہر کرتا ہے

Word Dictionary

Word Meaning Translation Transliteration
چرغوں چراغوں روشنی دینے والے چراغ charaghon
مقدر قسمت وہ جو پہلے سے طے شدہ ہو muqaddar
ازل ہمیشہ شروع سے ہمیشہ azal
کنول پھول ایک قسم کا پھول جو پانی میں کھلتا ہے kanwal
بجھے ختم ہونا ختم ہو جانا bujhe

Want to analyze your own poem?

Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.

Try Poetry Explainer — Free