Original Poem
تھے کتنے ستارے کے سرشام ہی ڈوبے ہنگام سحر کتنے ہی خورشید ڈھلے ہیں
Translation (Urdu)
کتنے ستارے شام کے وقت ہی غائب ہو گئے
صبح کے وقت کتنے سورج نیچے چلے گئے ہیں
About the Poet
Unknown (N/A)
یہ شعر کسی معروف شاعر سے منسوب نہیں ہے۔ اردو شاعری کی تاریخ میں کئی نامور شعراء گزرے ہیں جنہوں نے اردو زبان کو فروغ دیا۔
Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- N/A
- Background
- یہ شعر کسی خاص تاریخی یا ذاتی پس منظر کے بغیر ہے۔
Sources: https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ شعر ایک عمومی مشاہدہ بیان کرتا ہے کہ کس طرح شام کے وقت ستارے غائب ہو جاتے ہیں اور صبح کے وقت سورج غروب ہو چکے ہوتے ہیں۔ یہ ایک استعاراتی انداز میں زندگی کی ناپائیداری اور وقت کی تیزی سے گزرنے کو بیان کرتا ہے۔ شاعر یہاں وقت کی تبدیلی اور زندگی کے مختلف مراحل کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ستاروں کا ڈوبنا اور سورج کا ڈھلنا زندگی کی مختصر مدت اور اس کی ناپائیداری کی علامت ہے۔ یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں ہر چیز عارضی ہے اور ہمیں وقت کی قدر کرنی چاہیے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| سرشام | شام کے وقت | جب شام شروع ہوتی ہے | sar-shaam |
| ہنگام | وقت | کسی خاص وقت | hangaam |
| خورشید | سورج | سورج | khursheed |
| ڈھلے | غروب ہوئے | نیچے چلے گئے | dhale |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free