Original Poem
پلکو سے گر نا جاے یہ موتی سنبھال لو دنیا کے پاس دیکھنی والی نظر کہاں
Translation (Urdu)
پلکوں سے گرنے نہ دو یہ قیمتی آنسو، انہیں محفوظ کر لو
دنیا میں کسی کے پاس دیکھنے کی خاص نظر نہیں ہوتی
About the Poet
Unknown (Contemporary)
اس شعر کے شاعر کا نام معلوم نہیں ہے۔ یہ ایک جدید دور کا شعر ہے جو اردو شاعری کی روایت کا حصہ ہے۔
Historical Context
- Literary Form
- Ghazal
- When Written
- Contemporary
- Background
- یہ شعر انسانی جذبات اور احساسات کی نزاکت کو بیان کرتا ہے، جہاں آنسوؤں کو موتیوں سے تشبیہ دی گئی ہے۔
Sources: https://ur.wikipedia.org/wiki/استعارہ, https://en.wikipedia.org/wiki/Urdu_poetry
Detailed Explanation
یہ شعر انسانی جذبات کی نزاکت کو بیان کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آنسو جو پلکوں سے گرنے والے ہیں، انہیں سنبھال لو کیونکہ یہ موتیوں کی مانند قیمتی ہیں۔ دنیا میں ہر کسی کے پاس ان کی قدر کرنے والی نظر نہیں ہوتی۔ یہ شعر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ دنیا میں بہت سے لوگ ہیں جو دوسروں کے جذبات کو نہیں سمجھتے اور ان کی قدر نہیں کرتے۔ شاعر نے آنسوؤں کو موتیوں سے تشبیہ دی ہے جو ان کی قدر و قیمت کو ظاہر کرتی ہے۔
Themes
Literary Devices
Word Dictionary
| Word | Meaning | Translation | Transliteration |
|---|---|---|---|
| پلکو | آنکھوں کی جھپکیاں | آنکھوں کے اوپر کے بال | palko |
| موتی | قیمتی پتھر | سمندر سے نکلنے والا سفید قیمتی پتھر | moti |
| سنبھال | محفوظ کرنا | دیکھ بھال کرنا | sambhaal |
| نظر | دیکھنے کی طاقت | آنکھوں سے دیکھنے کی طاقت | nazar |
Want to analyze your own poem?
Paste any poem in 180+ languages and get an instant AI-powered analysis with translation, explanation, poet biography, and literary devices.
Try Poetry Explainer — Free